خطبات محمود (جلد 13) — Page 136
| محمود ۱۳۹ سال ۹۳۱ صحابہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ رات دن جاگتے تھے باوجود اس کے کہ وہ سوتے بھی تھے نگران کی نیند بھی جاگنے کے ہی برابر معلوم ہوتی ہے۔ہر صحابی کی خواہ وہ کہیں جا رہا ہو اور خواہ کچھ کر رہا ہو آنکھیں کھلی رہتی تھیں کان کھڑے رہتے تھے ، دل ہو شیار رہتا تھا اور جس تیز ہوتی تھی۔اگر کوئی تجارت کے لئے نکلتا تو بھی اس کے سامنے ایک ہی مقصد ہوتا اور وہ یہ کہ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ جس کے معنی یہ ہیں کہ خواہ کسی رستہ سے آؤ تجارت کر دیا زراعت، صنعت و حرفت کرد خواه سپاه گری، تمہارا طریق کار خواہ کچھ ہو تمہارے پیش نظر جو مقصد ہو وہ ایک ہی ہو اور وہ یہ کہ قولِ وَ جَهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ یعنی دنیا میں توحید کا ایک مرکز قائم کر دو۔مسجد حرام کیا تھی ؟ وہ مرکز تھا جو تو حید کے لئے قائم کیا گیا۔پس صحابہ کو حکم دیا گیا کہ ہر کام میں وہ اپنے پیش نظر یہی ایک مقصد رکھیں کہ شرک کو مٹاکر تو حید قائم کی جائے۔صحابہ نے اس حکم پر عمل کیا اور قابل رشک طور پر کیا۔ان کا نمونہ اور ان کی قربانی حیرت میں ڈال دیتی ہے۔وہ ایسے بیدار لوگ تھے کہ رسول کریم میر کا صیغہ خبر رسانی ان کی بیداری کی وجہ سے غیر معمولی طور پر مکمل نظر آتا ہے۔باوجودیکہ آپ نے کوئی جاسوس نہ رکھے ہوتے تھے مگر منافق کہتے تھے مواد کے وہ تو کان ہی کان ہے معلوم نہیں اتنی خبریں کہاں سے اسے پہنچ جاتی ہیں گویا وہ مجسم کان ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جس قوم کے افراد ہوشیار اور ذ کی ہوں اس کے سردار کو کان بننا پڑے گا۔جب ما تحت آنکھیں کھلی رکھیں تو سردار کو کان بنتا پڑتا ہے۔نادانوں نے بطور اعتراض یہ کہا کہ آپ کان ہیں مگر دراصل انہوں نے تاریخی طور پر تائیدی شهادت بہم پہنچاوی اور منافق کی تائیدی شہادت سے بہتر اور کیا شہادت ہو سکتی ہے۔پس چونکہ رسول کریم انا لا السلام کے صحابہ آنکھ ہی آنکھ تھے۔کوئی چیز ان کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہتی تھی اس لئے آنحضرت میں ہم سے بھی پوشیدہ نہ رہ سکتی تھی کیونکہ صحابہ جو کچھ آنکھ سے دیکھتے تھے زبان سے رسول کریم میں اللہ کے گوش گزار کر دیتے تھے اور آپ سن لیتے تھے یہ عیب نہیں بلکہ تعریف ہے۔قومی ترقیات کا پہلا زینہ یہی ہے کہ قوم کے افراد میں بیداری اور ہوشیاری ہو اور جب یہ بات کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ یہ قوم خدا تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بننے والی ہے۔جب بارش ہوتی ہے تو یکدم نہیں ہو جاتی بلکہ پہلے ٹھنڈی ہوا چلتی ہے پھر بادل آتے ہیں اور ایک قسم کا جس ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک قسم کی جنگی ہوتی ہے پھر تھوڑا تھوڑا ترشح ہوتا ہے اس کے بعد زور سے بارش ہوتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل نازل