خطبات محمود (جلد 13) — Page 127
خطبات محمود ۱۲۷ حملہ کیا جائے۔میرے نزدیک قوم کی اخلاقی زندگی جسمانی زندگی سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔میں یہ تو پسند کروں گا کہ جسمانی طور پر اسے ہیں ڈالا جائے بجائے اس کے کہ اس کے اخلاق بگاڑ دیئے جائیں اس لئے میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ تم میں سے کوئی اخلاقی کمزوری دکھائے اور کسی پر حملہ کرے۔لیکن مومن کا یہ کام ہے کہ وہ دلیری کے ساتھ پیغام حق پہنچائے پھر اگر کوئی حملہ کرے تو دلیری کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے۔اگر اس کے پاس صداقت ہے تو وہ یقین رکھے کہ دس ہزار دشمن پر بھی خدا تعالیٰ اسے غالب کرے گا اور اگر وہ مارا بھی جائے تو اس کے لئے جنت مقدر ہے۔ہم کس لئے دنیا میں زندہ رہنا چاہتے ہیں؟ اس لئے کہ خدا تعالٰی کی رضاء حاصل کرنے کی توفیق مل جائے۔اور اگر ایک دفعہ قتل ہو جانے سے یہ مقصد حاصل ہو جائے تو اس سے آسان سودا اور کیا ہوگا۔یہ چھڑی تمہاری گردن پر نہیں بلکہ تمہارے نفس پر ہوگی جس کے لئے تم مدت سے کو شاں تھے۔پس تم ڈرتے کس بات سے ہو۔دنیا تمہارے قدموں کے نیچے ہے۔اس نیت کے ساتھ گھروں سے نکلو کہ اس سال ہم نے ساری دنیا کو احمدی کرنا ہے۔میں نے اعلان کیا تھا کہ شہری جماعتیں تبلیغ کی طرف توجہ کریں۔لکھنو کی جماعت نے کوشش شروع کی۔پندرہ سولہ سال سے وہاں کوئی احمدی نہ ہوا تھا مگر اب مجھے بتایا گیا ہے کہ تین ماہ کی کوشش سے ہی وہاں ہیں آدمی جماعت میں داخل ہو چکے ہیں۔جن میں بارہ کمانے والے ہیں۔میں نے وعدہ کیا تھا جو شہری جماعتیں دوران سیال میں تو ایسے احمد کی بنائیں گی جن میں سے پچاس کمانے والے ہوں گے ان کو ایک مستقل مبلغ دیا جائے گا۔مجھے امید ہے اگر لکھنؤ والوں نے کوشش جاری رکھی تو وہ مبلغ لے سکیں گے۔میں مستقل مبلغ دینے سے ڈرتا نہیں ہوں بلکہ میری تو خواہش ہے کہ جماعتیں اس کوشش میں کامیاب ہو کر مبلغ حاصل کر لیں۔ہمارے پاس صداقت ہے اور صداقت سے کون انکار کر سکتا ہے۔صداقت آخر دنیا کو ماننی ہی پڑے گی۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ تم کھڑے ہو جاؤ اور دیوانہ وار پیغام حق پہنچاؤ تاخد اتعالیٰ دنیا کو اپنے رسول کے قدموں میں ڈال دے اور تا تم اسی دنیا میں جنت حاصل کر سکو۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔بزدلی کو دور کر کے ہمارے اندر بہادری بڑھائے اور اس قدر تقویت دے کہ اگر ایک کے مقابلہ میں ساری دنیا بھی ہو تو وہ پیچھے نہ ہٹے بلکہ ڈٹ جائے۔اسی طرح میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام کو صحیح فیصلوں کی اور اس کے چھوٹے افسروں کو صحیح رپورٹ کی توفیق دے اور وہ جھوٹی