خطبات محمود (جلد 13) — Page 126
خطبات محمود سا سال ۱۹۳۱ء میں چھوٹا تھا اور بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔بعض احمدی ایک جگہ بھرتی ڈس رہے تھے کہ کچھ سکھوں نے انہیں روکا۔مجھے یاد ہے بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اکیلے ان کے درمیان کود پڑے اور کہا ایک مسلمان دس پر بھاری ہوتا ہے آئے جو سامنے آتا ہے۔یہ فقرہ میں نے اسی وقت سب سے پہلے بنا اور حدیثوں میں بعد میں پڑھا اس پر سب بھاگ گئے۔پس ایسے بزدلوں کے لئے جو کہتے ہیں سکھوں کے گاؤں ہیں اس لئے ہم تبلیغ کے لئے نہیں جاسکتے احمدیت میں کوئی جگہ نہیں۔تم میں سے ہر ایک کے اندر یہ جرات ہونی چاہئے کہ وہ ہزار غیر مسلموں پر بھی فتح پائے گایا بہادروں کی طرح لڑتا ہوا جان دیدیگا۔اگر تمہارے اندر یہ ہمت اور جوش پیدا ہو جائے تو موجودہ تعداد سے نصف ہوتے ہوئے بھی دنیا کو فتح کر سکتے ہو۔پس ادھر اگر میں گورنمنٹ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہمارے احساسات کا خیال رکھے تو دوسری طرف آریوں کو بھی یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے لیڈروں کی ہم عزت کریں تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب کریں اور ان پر جھوٹے اتہام لگانا چھوڑ دیں۔ورنہ ہم گورنمنٹ کی وارننگز سے نہیں ڈرتے۔ہمارے گورنمنٹ سے دو تعلق ہیں۔ایک اطاعت کا وہ ہم ہر حالت میں کریں گے۔دوسرا اپنا راستہ چھوڑ کر بھی مدد کرنے کاوہ ہمارا احسان ہے اور وہ کام اسی وقت کریں گے جب کہ گورنمنٹ ہمارے احساسات کا اور مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ہندو کلرکوں کی شرارت ہے۔یا ممکن ہے کسی مسلمان کی ہی ہو کیونکہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کہا تھا اماں اماں اگر میں تھانیدار ہو گیا تو پہلے تجھے ہی حوالات میں ڈالوں گا۔ایسے مسلمان اپنا بڑا کارنامہ یہی سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک اپنی رواداری کے اظہار کا یہی ذریعہ ہے کہ خود مسلمانوں کے خلاف حکام سے شکایات کریں۔بہر حال کچھ بھی ہو مجھے امید ہے افسران بالا کا اس میں دخل نہیں۔یہ ماتحتوں کی شرارت ہے اور گورنمنٹ کو جب حالات کا علم ہو گا تو وہ اس پر ضرور نادم ہوگی اور اگر نہیں تو اسے یاد رکھنا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کی عزت قائم کرنے کے لئے احمد کی ہر وقت تیار ہیں۔اور خواہ انہیں کسی قسم کی قربانی کرنی پڑے وہ ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔بے شک ہم فتنہ و فساد نہیں پیدا کریں گے لیکن پھر بھی ایسے راستے ہیں کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے بھی ہم اپنے بزرگوں کی تحقیر کرنے والوں کو ایسی دکھتی رگ سے پکڑ سکیں کہ انہیں ہوش آ جائے۔میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ بہادری نہیں کہ کسی پر