خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 125

۱۲۵ سکتا۔درمیان قعر دریا تخته بندم کرده سال ۱۹۳۱ء۔بازی گوئی کہ دامن ترمکن ہوشیار باش یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف تو وہ ہماری زبان بندی کر دے اور دوسری طرف حکم دے کہ غیرت دکھاؤ۔اس لیئے آریوں کو بھی یا درکھنا چاہئے کہ ہم بیشک قانون کی پابندی کریں گے مگر اس کے باوجود ان کی دُکھتی رگ کو پکڑ سکتے ہیں یہاں تک کہ وہ سیدھے ہو جائیں۔میں اپنے مصنفین کو اجازت دیتا ہوں کہ بد اخلاقی کو چھوڑ کر وہ جیسا سخت چاہیں لکھیں میری طرف سے انہیں اجازت ہے۔باقی رہا گورنمنٹ کا معاملہ سودہ ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔قانون کی پابندی کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ تم قید سے ڈرو۔اگر تم نے کوئی جرم نہیں کیا اور اظہار صداقت کے جرم میں تمہیں جیل جانا پڑے تو بھاگے ہوئے جاؤ۔لیکن وہی شخص قلم اٹھائے جو جماعت سے کوئی امداد نہ لے۔جو ڈیفنس وہ خود پیش کر سکتا ہے کرے اور اگر اس میں استطاعت نہیں اور وہ ایسا نہیں کر سکتا تو خاموشی کے ساتھ جیل میں چلا جائے اور سزا بھگت لے۔تمہارا فرض صرف یہ ہے کہ قانون کی پابندی کرو۔خدا نے بھی اسلام نے بھی بانی سلسلہ احمدیہ نے بھی اس کا حکم دیا ہے اور میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں لیکن اگر تم کوئی ایسا فعل کرتے ہو جو قانوناً ممنوع نہیں بلکہ گورنمنٹ کہتی ہے کہ تم نے جرم کیا ہے۔مثلاً کوئی ایسا قانون موجود نہیں کہ لیڈروں کے خلاف سختی سے مت لکھو بلکہ گورنمنٹ کہتی ہے جو ایسا کرے گا اسے ہم پکڑ لیں گے اس لئے اگر ضروری ہو تو لکھو اور سزا بھگت لو۔ہاں اگر گورنمنٹ یہ قانون بنا دے کہ کوئی شخص فلاں فلاں لفظ مت استعمال کرے تو اس وقت بے شک تم لکھنا چھوڑ دو اور اپنے لئے اور راستہ تلاش کرو۔جماعت کے لوگوں کو دلیری دکھانی چاہئے۔میں نے سنا ہے بعض کو کہا گیا کہ تبلیغ کے لئے جاؤ تو انہوں نے کہا سکھوں کے گاؤں ہیں وہاں تکلیف کا خوف ہے۔میں کہتا ہوں لعنت ہے ایسی احمدیت پر۔تمہارے اندر تو یہ جرات ہونی چاہئے کہ ایک آدمی پر اگر ایک سارا سکھ گاؤں حملہ کرے تو وہ اکیلا سب کو بھگا دے۔تمہارے ذمہ نہ صرف اپنی بلکہ تمام مسلمانوں کی حفاظت ہے۔جو لوگ محمد رسول اللہ امام کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ان کی حفاظت تمہارا فرض ہے۔اس لئے دلیر بنو اور جرات دکھاؤ۔چونکہ پہلے کی طرح کے مظالم کا زمانہ اب قریباً ختم ہو گیا ہے۔اس لئے میں دیکھتا ہوں بعض تم میں سے بزدل ہوتے جاتے ہیں۔پہلے دنوں میں یہ حالت نہ تھی۔