خطبات محمود (جلد 13) — Page 124
خطبات محمود ۱۲۳ سال ۱۹۳۱ء خاندان اور سلسلہ کے احسانات کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ ایسے محسن خاندان کے فرد اور ایسے محسن سلسلہ کے بانی کو لوگ سندھی کہیں ۔ نعوذ با الله ولد الزناء کہیں۔ اور دوسرے اتہامات لگا ئیں تو گورنمنٹ کو کوئی جوش نہیں آتا لیکن لیکھو کو اگر لیکھو کہا جائے تو اسے بہت غیرت آتی ہے۔ فساد کا خطرہ پیدا ہو جاتا ۔ را ہو جاتا ہے۔ اورنگ زیب کو بے شک جو کچھ کوئی چاہے کہتا جائے اس : میں کوئی حرج نہیں لیکن ایک ڈاکو کو ڈاکو کہنا برداشت نہیں کر سکتی ۔ حالانکہ اگر سیواجی قابل اعزاز ہے تو بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی بھی عزت کے قابل ہیں۔ اس نے سیوا جی ایسے باغیوں کی حمایت کر کے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے اور نوجوانوں کو بغاوت پر آمادہ کیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ کلرک یا سپرنٹنڈنٹ جس نے الفضل کا وہ پرچہ افسران بالا کے پیش کیا جس میں لیکھو لکھا گیا تھا اس خطبہ پر بھی نشان کر کے پیش کرے گا اور اس وقت حکومت پنجاب کے ارکان کو جنہیں میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بہت شریف آدمی ہیں سمجھ آجائے گی کہ ہمارے دل ان باتوں سے کس قدر رنجیدہ ہیں۔ بے شک ہم گورنمنٹ کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہماری حسیات مردہ ہیں۔ مومن ہونے کی وجہ سے ہمارے احساسات اور جذبات دوسروں سے کئی گنا زیادہ تیز ہیں۔ ہم سب اقوام کے بزرگوں کی عزت کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر ہمارے بزرگوں کی کوئی تحقیر کرے گا تو ہم ان کے لیڈروں کو سانپوں ، بھیڑیوں اور ذلیل کیڑوں سے بھی زیادہ حقیر دیکھیں گے اور ایسا سبق دیں گے کہ قیامت تک یاد رکھیں گے ۔ ہمیں جو گالیاں چاہے دے لے مگر اپنے بزرگوں کی شان میں ہم ادنیٰ سے ادنی ہتک بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ قتل سے زیادہ سنگین الزام کسی شریف آدمی پر اور کیا لگایا جاس جاسکتا ہے اگر آریہ سمجھتے ہیں یہ الزام صحیح ہے تو وہ ثابت کریں۔ اور اگر گورنمنٹ بھی واقعی آپ کے آپ کو قاتل سمجھتی ہے تو اس نے کیوں چھوڑ دیا۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ خود قاتلوں اور مجرموں کی طرفدار ہے۔ لیکن اگر وہ نہیں سمجھتی تو اس کا فرض ہے کہ آریوں کو اس بہتان طرازی سے روکے۔ پس ہم ہرگز ایسے نوٹسوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ کرتے ۔ ہم قانون کی پابندی کرتے ہیں ۔ گورنمنٹ اگر کوئی قانون بنائے گی کہ لیکھو کو لیکھو نہ کہا جائے تو خدا تعالی ہمارے لئے کوئی اور راہ نکال دے گا جس سے ہم آریوں کی دکھتی رگ کو پکڑ سکیں گے کیونکہ اسلام کوئی حکم ایسا نہیں دیتا جس سے مشکلات میں اضافہ ہو جائے ۔ اگر اس نے قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے تو ایسے راستے بھی بتائے ہیں کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے بھی اپنی غیرت کا ثبوت دے سکیں۔ اسلام کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہہ