خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 123

८ خطبات محمود ۱۲۳ سال ۱۹۳۱ء سیکرٹری کو میں ہمیشہ سے اپنے دوستوں میں سمجھتا ہوں اور انہوں نے بھی ہمیشہ مجھے اور جماعت احمدیہ کو ایسا ہی سمجھا ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ مسلمان بھی نہیں مگر میں اپنے تجربہ کی بناء پر ان پر اسی طرح اعتبار کرتا ہوں جس طرح ایک احمدی پر - ریویو نیو ممبر ایک مسلمان ہیں جو گو ہماری جماعت میں شامل نہیں لیکن سعید نوجوان ہیں اور ہمیں ان کی نسبت بہت کچھ امید ہے اور میں ان کے مستقبل کی نسبت بعض خاص وجوہ سے خاص دلچسپی رکھتا ہوں۔ پس میں ان لوگوں کی موجودگی میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ باوجو د واقعات کا علم ہونے کے انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے یقینا انہیں دھوکا دیا گیا ہے۔ انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ آریوں نے پہلے یہ شرارت کی ہے۔ اور نیز انہیں یہ دھوکا دیا گیا ہے کہ لیکھو کا نام لیکھرام تھا ورنہ میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ وہ یہ فیصلہ کرتے کہ آریہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قاتل کے جائیں لیکن کوئی نوٹس نہ لیا جائے اور احمدی اگر لیکھو کو لیکھو لکھیں تو فوراً انہیں وار ننگ دی جائے۔ پس میں ان ذمہ دار اصحاب کو بتانا چاہتا ہوں کہ قطع نظر آریہ سماج کے باغیانہ رویہ اور ہماری خدمات سے انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آریہ لوگ اپنی خباثت سے ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قاتل لکھتے ہیں اور اب بھی انہوں نے نے ایہ ایسا کیا ہے۔ پس اس کے جواب میں ہمارا حق ہے کہ جبکہ گورنمنٹ ان کا منہ بند نہیں کرتی ہم ان کا منہ بند کریں۔ اسی طرح یہ واقعہ ہے کہ لیکھو کا اصل نام لیکھو تھا اس میں ان کی کوئی ہتک نہیں۔ نام ماں باپ رکھتے ہیں انہوں نے سیکھو مانے لیکھو نام رکھا تو یہ ان کے وقت کے معیار کے مطابق تھا۔ آر یہ لوگ اس نام کو بدلنے کا نے پورا حق رکھتے ہیں لیکن وہ دوسروں کو مجبور نہیں کر سکتے ۔ جب تک وہ اپنے رویہ کو بدل کر اخلاقی حق پیدا نہ کرلیں۔ پھر تعجب ہے ، باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد ماجد کا نام غلام مرتضی تھا۔ اور بھائی کا نام غلام قادر اور آپ کا اپنا نام بھی اسی ۔ ی اسی سلسلہ میں تھا مگر بٹالہ یا اور جگہ سے ایک اشتہار شائع ہوا کہ آپ کا نام سندھی تھا۔ گورنمنٹ کو متواتر توجہ دلائی گئی مگر اس نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ اس شخص کے لئے اسے کوئی جوش نہیں آتا جس کے احسان کے نیچے گورنمنٹ کا پورا پورا دیا ہوا ہے ۔ ۱۸۷۰ء سے اس وقت تک اس کا خاندان اور اس کا سلسلہ گورنمنٹ پر احسانات کر رہا ہے اور ان ساٹھ سالہ احسانات کے صلہ میں گورنمنٹ کا ایک پائی کا احسان بھی ہم پر نہیں۔ اگر گورنمنٹ یہ ثابت کر دے کہ ہم نے کبھی اس سے ایک پیسے کے دسویں حصہ کا بھی احسان قبول کیا ہے تو میں ہر سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔ گورنمنٹ ہمارے کسی