خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 112

خطبات محمود ۱۱۲ 13 مسلمان غیروں کے مقابلے میں متحد ہو جائیں (فرموده ۲۷- مارچ ۱۹۳۱ء) سال ۱۹۳۱ء تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اگر چہ گلے کی خرابی کی وجہ سے میں زیادہ بول نہیں سکتا مگر میں سمجھتا ہوں یہ وقت اس قسم کا ہے کہ اپنی مجبوریوں کے باوجود بھی اب ہم سب کو کام کرنا پڑے گا اور گو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جا تا مگر طاقت کا اندازہ بھی زمانوں کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ایک شخص اگر بیمار پڑا ہو تو تھوڑے سے کام کے لئے بھی کوئی اسے نہیں کے گالیکن اس گھر میں اگر آگ لگ جائے تو اسے بے اختیار اٹھ کر بھاگنا پڑے گا۔اس وقت بھی اگر چہ وہ اپنی طاقت کے مطابق ہی کام کرے گا مگر اس وقت طاقت کا اندازہ بدل جائے گا گویا طاقت کا اندازہ بھی حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ایک وقت تھوڑی کمزوری کے عذر کو بھی تسلیم کر لیا جاتا ہے مگر دوسرے وقت اوسط درجہ کی کمزوری کا عذر ہی قابل سماعت ہوتا ہے اور معمولی کمزوری کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔پھر ایک وقت وہ بھی ہوتا ہے جب انتہائی کمزوری کا عذر ہی مانا جا سکتا ہے اور اس سے کم کا مذر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔پس طاقتوں کے اندازے زمانہ کی حالت کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں۔یہی حال اس وقت ہے۔اب ایسا زمانہ آگیا ہے کہ عام مسلمانوں کے لئے عموماً اور احمدیوں کے لئے خصوصاً اپنے نفسوں پر زور دینے کے دن ہیں۔سیاسی خطرات اپنے ساتھ مذہبی خطرات بھی لا ر ہے ہیں۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے اخبار " سٹیٹسمین " میں مسٹر گاندھی کا ایک انٹرویو شائع ہوا جس میں لکھا تھا سو راج کے زمانہ میں اگر غیر ملکی مشنری ہندوستانیوں کے عام فائدہ کے لئے روپیہ خرچ کرنا چاہیں گے تو اس کی تو انہیں اجازت ہوگی لیکن اگر وہ لوگوں کو