خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 95

خطبات محمود ۹۵ سال ۱۹۳۱ء نہیں دے سکتا کیونکہ انسان اسے بھول جاتا ہے اور ہر جمعہ کا خطبہ پچھلے جمعہ کے خطبہ کی پیدا کردہ رو کو بہا کر لے جاتا ہے۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ خطبہ بے اثر چیز ہے یا غیر مفید ہے کیونکہ روح پیدا کر نا درس و تدریس سے بھی ایک لحاظ سے زیادہ اہم کام ہے۔اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری قوموں کو ترقی کے بہت سے مواقع حاصل ہیں مگر چونکہ ان کے اندر روح نہیں اس واسطے وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔پس جماعت کے اندر روح ، جوش ، ہمت اور تازگی پیدا کرنا بھی بہت اہم کام ہے اور یہ سوائے خطبہ کے ہو نہیں سکتا اس لئے میں یہ تو نہیں کہتا کہ خطبہ غیر مفید ہے بلکہ میرا مطلب صرف یہ ہے کہ جماعت کی تعلیم و تربیت کے لئے یہ مکمل ذریعہ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اور ذرائع بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تا اس سے پیدا شدہ جوش سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکے۔خطبات بجلی پیدا کر دیتے ہیں۔مگر جب تک بجلی سے لیمپ نہ روشن کئے جائیں پنکھے نہ چلائے جائیں ، مشینیں نہ چلائی جائیں اس وقت تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اس لئے اس سال سے میں نے ارادہ کیا ہے کہ جماعت کو عملی حصہ کی طرف متوجہ کیا جائے۔میں نے اپنے زمانہ خلافت میں نظارتیں قائم کی ہیں اور چونکہ جماعت میں ناظروں کی طرف توجہ کرنے کا مادہ بہت کم تھا اس لئے جب بھی کوئی معاملہ میرے پاس آتا میں یہی جواب دیتا کہ نظارت متعلقہ میں لے جاؤ کیونکہ میں دیکھتا تھا لوگ سارے کام خلیفہ سے ہی کرانا چاہتے ہیں۔میں نے بعض دفعہ یہ جانتے کہ ہوئے کہ نقصان ہو رہا ہے اس نقصان کو برداشت کر لیا تا ایک نظام قائم ہو جائے اور جماعت میں تنظیم کی روح پیدا ہو سکے مگر اب چونکہ ایک حد تک تنظیم کا احساس جماعت میں پیدا ہو چکا ہے نظار توں کو کام کا موقع دے کر میں جو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا وہ ایک حد تک پورا ہو گیا ہے اور اب خدا کے فضل سے اس روح کے تباہ ہونے کا خطرہ باقی نہیں رہا اس لئے میں اب پہلے سے زیاده براه راست توجہ نظارتوں کے کام کی طرف دوں گا۔اسی سلسلہ میں میرا منشاء ہے کہ قادیان اور اس کے ارد گرد کے احمدیوں میں عملی طور پر اصلاح کا قدم اٹھایا جائے۔یہ اصلاحی پروگرام تین طریق پر جاری کیا جا سکتا ہے۔ایک طریق تو تبلیغ کا ہے یعنی جماعت کو مجبور کیا جائے کہ تبلیغ کرے اور اپنے ارد گرد کے علاقہ یا حلقہ اثر میں کام کرنے کے لئے اپنے اوقات میں سے کچھ وقت تبلیغ کے لئے وقف کرے۔اب صداقت احمدیت اس قدر روشن ہو چکی ہے کہ اگر اشد ترین دشمنوں کو بھی کریدا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ بھی دل میں قائل ہو چکے ہیں۔بہت سے لوگ