خطبات محمود (جلد 13) — Page 81
سال ۱۹۳۱ء نہیں M وجہ ہے کہ رسول کریم می لا علم کے زمانہ میں جب مسلمانوں نے بار بار چھوٹے چھوٹے مسائل دریافت کرنے شروع کئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُوكُم اے ایمان والو ایسی باتیں کبھی دریافت نہ کرو جو تمہیں اگر بتلا دی جائیں تو تم دکھوں میں پڑ جاؤ۔ہم نے کئی مسائل جان بوجھ کر چھوڑ دیئے ہیں کیونکہ اگر ہر بات ہم بیان کر دیں تو تم دکھ میں مبتلاء ہو جاؤ گے۔اب خدا تعالیٰ کا تو کوئی حکم ایسا نہیں ہو سکتا جو انسان کو تکلیف میں ڈال دے اور اس کے لئے دکھ کا موجب ہو اگر واقعی کوئی حکم نقصان رساں ہے تو پھر وہ خدا کا حکم کہلا سکتا۔پس اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالٰی اگر کوئی بات بتا تا تو وہ دکھ کا باعث ہو جاتی بلکہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر ہم تمام تفاصیل بیان کر دیں تو تمہارا دماغ ناکارہ ہو جائے گا اور اس کا ارتقاء رک جائے گا اور یہ تمہارے لئے دکھ کی بات ہوگی۔وگر نہ مسلمان تو ایک منٹ کے لئے بھی یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی حکم ایسا بھی ہو سکتا ہے جو دکھ کا موجب ہو اس کا تو ہر حکم خیر اور برکت کا ہی موجب ہے مگر دماغوں کا نتعطل سب سے بڑی نحوست ہے اور یہی نحوست واقع ہو جاتی ہے اگر تمام تفاصیل اور باریکیاں بھی خدا تعالیٰ خود بیان کر دیتا۔پس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو کہ وہ قرآن کامل کتاب ہے مسلمانوں نے نہ سمجھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب تک یہ حکمت ان کے سامنے رہی کہ قرآن نهایت وسیع مطالب رکھتا ہے اس وقت تک تو ان کی قابلیتیں بڑھتی گئیں مگر جب ان میں یہ غلطی پیدا ہو گئی کہ اس اکملیت کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کے معارف میں ترقی نہیں ہو سکتی اور اس سے نئے نئے علوم نکالے نہیں جاسکتے تو انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ پچھلے بزرگوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا تو انکار نہیں ہو سکتا وہ تو جو کچھ قرآن کے معارف لکھ گئے سو لکھ گئے مگر آگے کسی کا حق نہیں کہ قرآن سے نئے نئے معارف نکال کر لوگوں کے سامنے پیش کرے کیونکہ یہ کامل کتاب ہے اور اس نے آپ ہی آپ سب کچھ بیان کر دیا ہے۔مسلمانوں کے لئے یہ تو مشکل تھا کہ پہلوں کو غلطی خوردہ کہتے اس لئے انہوں نے کہا کہ پہلوں نے تو جو کچھ لکھا وہ ٹھیک لکھا ان کا حق تھا کہ وہ لکھتے مگر آگے کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا۔حالانکہ قرآن میں اگر واقعی نئے نئے علوم ہیں تو پھر اگر پہلوں کا حق تھا کہ وہ قرآن کے نئے علوم بیان کریں تو ہمارا کیوں حق نہیں۔اور اگر قرآن خدا تعالیٰ کا کلام نہیں اور اس سے نئے نئے معارف ہم نہیں نکال سکتے تو نئے معنے کرنے پر جیسے ہم مجرم ہیں ویسے ہی پہلے بھی مجرم ہیں۔کیا وجہ ہے کہ میں اگر قرآن سے کوئی نئی بات نکالوں تو گناہ ہو جائے اور اگر ابن عباس قرآن کی کسی آیت کے نئے معنے کریں