خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 80

خطبات محمود دوسروں سے زیادہ محفوظ رہیں گے۔جس طرح وباء کے ایام میں جو اشخاص حفاظت نفس کے لئے تدابیر اختیار کرتے ہیں وہ نسبتا دو سروں کے مقابلہ میں وباء کا بہت کم شکار ہوتے ہیں۔میں نے بتایا ہے سب سے پہلی چیز جو انسان پر اثر کرتی ہے وہ اس کا منبع ہوتا ہے۔جسمانی لحاظ سے ہمارا منبع وہ فرق ہیں جو اگرچہ اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں مگر عقائد اور اعمال کے لحاظ سے اسلام میں بہت کچھ تبدیلی کر چکے ہیں۔ہمیں غور کرنا چاہئے کہ انہوں نے کہاں کہاں ٹھو کر کھائی۔اور پھر اس کے قومی لحاظ سے کیسے خطرناک نتائج پیدا ہوئے تاہم اپنے آپ کو ان بدیوں سے محفوظ رکھ سکیں۔اس وقت میں ان تمام باتوں میں سے صرف ایک بات بیان کرتا ہوں۔مسلمانوں کو کتاب تو قرآن جیسی کامل ملی تھی مگر بد بختی سے ایسی غلطیاں ان میں پیدا ہو گئیں جن کی وجہ سے ان میں مخصوص امراض کا پیدا ہو جانا لازمی امر تھا۔چنانچہ پہلی چیز جو قومی بدی پیدا کرنے کا باعث ہوئی وہ مسلمانوں کا یہ یقین تھا کہ قرآن نہایت مکمل کتاب ہے۔اور اس میں ان تمام باتوں کا بالتفصیل ذکر موجود ہے جو اول سے آخر تک انسانوں کی ہدایت کا موجب ہیں۔بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں نے قرآن کی ایک مسلمہ خوبی کو عیب بتایا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ دراصل یہ ہے تو خوبی مگر اس کے غلط طور پر سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت بڑا عیب پیدا ہو گیا۔اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کامل کتاب ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ قیامت تک کے لئے یہی ہدایت نامہ ہے جس میں تمام اعلیٰ تعلیمیں جمع کر دی گئی ہیں۔مگر اس میں بھی شک نہیں اللہ تعالی نے جو انسانی دماغ کا خالق ہے وہ یہ جانتا تھا کہ دماغ کی یہ خاصیت ہے کہ اگر اسے سوچنے کی عادت نہ ڈالی جائے تو یہ مُردہ ہو جاتا ہے اور اس میں ترقی کرنے والی کیفیت باقی نہیں رہتی اس لئے گو قرآن کو اس نے کامل بنایا مگر ہر حکم جو دیا اس کا ایک حصہ انسان کے دماغ کے لئے چھوڑ دیا۔کچھ اصول بتائے اور کچھ فروع اور بعض جگہ فروع کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا گیا تا انسان انہیں خود تلاش کرے اور تا انسانی دماغ ناکارہ نہ ہو جائے اس لئے قرآن مجید ایسی عبارت اور ایسے الفاظ میں نازل کیا گیا کہ ان پر جتنا زیادہ غور کرو اتنے ہی زیادہ معارف پر اطلاع ہوتی ہے۔وگر نہ اگر سب کو یکساں فائدہ پہنچانامد نظر ہو تا تو مضمون ایسا کھلا ہو تاکہ ہر شخص خواہ وہ غور کر تایا نہ ان مضامین سے آگاہ ہو جاتا۔مگر قرآن مجید کے مضامین اتنے گہرے اور باریک ہیں کہ کوئی دوسری کتاب اس خصوص میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔صاف ظاہر ہے کہ اس سے منشاء الہی یہی ہے کہ انسانی دماغ معطل اور بے کار نہ ہو بلکہ وہ سوچے اور غور کرے تاکہ اس کا نشو و نما ہو تا رہے۔یہی