خطبات محمود (جلد 13) — Page 73
خطبات محمود ۷۳ سال ۱۹۳۱ء والے نئی روشنی کے دلدادہ سو میں سے نانوے ایسے ہوں گے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن کے الفاظ خدا کے الفاظ نہیں بلکہ رسول کریم ملی الا علی کے اپنے الفاظ ہیں ان میں بہت اچھے خیالات ہیں لیکن یہ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے یہ ہم نہیں مان سکتے۔غرض اس زمانہ میں سب سے بڑا حربہ یہی چلا کہ الہام کیا چیز ہے ؟ یہ ایک وہم ہے جس میں لوگ مبتلاء رہے۔میں کہتا ہوں خواہ تم کچھ کہو خود میرے کانوں نے جب خدا تعالیٰ کی آواز سنی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی کی وجہ سے سنی تو میں کس طرح انکار کر سکتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو نہ صرف الہام ہوئے بلکہ آپ کی غلامی اختیار کرنے والے ہزاروں الہام پا رہے ہیں۔اس سے ثابت ہو گیا کہ نبوت ایک حقیقی چیز ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے دو مقام ظاہر فرمائے ایک کامل امتی بن کر امتیت کی جو شکل بگڑ چکی تھی اس کی اصلاح کی اور اصل شکل میں قائم کر کے اسے نئی زندگی بخشی۔دوم نبی بن کر نبوت کا جو مقام رسول کریم میں ہم نے آکر بتایا تھا اسے قائم کیا۔اس طرح آپ کے ذریعہ دونوں مقام محمدیت کا اور احمدیت کا ظاہر ہوئے۔پس یہ بہت بڑی برکات کا زمانہ ہے۔ہم نہیں جانتے کہ یہ کب تک چلے مگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اس کی برکات کو کانوں سے سنا آنکھوں سے دیکھا، جسموں سے محسوس کیا اور دعا کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہم اور ہماری نسلیں اور ان کی نسلیں جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو اور ہمیشہ ہی شامل ہو ان برکتوں سے حصہ پائیں اتر مذی ابواب الفتن باب ما جاء في الدجال الفضل ۳ مارچ ۱۹۳۱ء)