خطبات محمود (جلد 13) — Page 659
خطبات محمود ۲۵۹ سال ۱۹۳۲ء لڑیں گے۔یہ واقعہ اس لئے بتایا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر خود دشمن محسوس کرتا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایک بڑی تعداد فنون جنگ سے ناواقف ہے۔اور ایسی ناواقف کہ مکہ والے آپ ہی ان سے لڑائی کرنا اپنی ہتک خیال کرتے۔یہ حالات تھے جو مسلمانوں کے متعلق پائے جاتے تھے اور ظاہری سامانوں کے لحاظ سے کلی طور پر مایوسی نظر آ رہی تھی۔ادھر مکہ کے لوگوں کو اپنی طاقت و قوت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ بعض ان میں سے اپنے ساتھیوں سے اپیل کرتے کہ آخر یہ مسلمان ہمارے رشتہ دار ہی ہیں، ان سے نہیں لڑنا چاہئے۔گویا مکہ والے اسے لڑائی نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ وہ خیال کرتے تھے کہ ہم چند منٹوں میں ہی ان سب کو قتل کر دیں گے اس لئے کہتے اپنے کمزور بھائیوں کو میدان میں مار ڈالنا اچھی بات نہیں۔غرض جنگی لحاظ سے مسلمانوں کی یہ حالت تھی مگر رسول کریم ما کی بجائے اس کے کہ میدان جنگ کے متعلق فکر کرتے ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے اللہ تعالٰی سے دعائیں مانگ رہے تھے اور بار بار آپ پر رقت کا عالم طاری ہو جاتا۔اور آپ فرماتے اے خدا یہ شیطان سے تیری فوج کی آخری جنگ ہے۔اگر اس میں تیرے مومن بندوں نے شکست کھائی اور یہ مارے گئے تو پھر تیرے نام لیوا دنیا سے مٹ جائیں گے۔پس اے خدا! میں تیری توحید اور تفرید کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تو ان کو کامیاب کر۔غرض لوگ جس وقت نیزے کی انی تیز کر رہے ہوتے ہیں جب وہ تلواروں کے جھنکارنے میں مشغول ہوتے ہیں جب وہ دیگر آلات حرب کو درست کر رہے ہوتے ہیں اس وقت محمد میر کی نظر میں اگر کوئی تلوار اگر کوئی نیزہ اور اگر کوئی تیر کام کرنے والا تھا تو وہ اللہ اور اس کے حضور عاجزانہ دعا تھی۔یہ وہ حقیقی عبادت ہے جس کی اسلام بہت تاکید کرتا ہے۔عبادت وہ نہیں کہ انسان کبھی مندر میں گیا یا کبھی مسجد میں اور پھر ذراسی ٹھوکر لگنے پر اپنے ایمان کی ساری پونجی فروخت کر ڈالی۔اور کہہ دیا کہ جاؤ ہم ایسے اسلام کو قبول نہیں کر سکتے۔بلکہ عبادت وہ ہے کہ جس وقت انسان کے چاروں طرف عبادت سے روکنے والے اسباب اکٹھے ہوں اس وقت سب سے زیادہ عبادت پر زور دے۔اور سمجھے کہ اگر کوئی ذریعہ نجات دینے والا ہے تو وہ عبادت ہی ہے۔یہ تو قومی خطرہ کی مثال تھی اب میں ایک نفسی خطرہ کی مثال بھی سنا دیتا ہوں۔رسول کریم میں یہ ایک جنگ سے واپس آرہے تھے کہ دشمنوں میں سے ایک شخص نے قسم کھائی کہ میں محمد میر کو ضرور قتل کروں گا۔آپ راستہ میں ایک جگہ قیلولہ کے لئے ٹھرے اور ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے۔باقی تمام صحابی بھی مختلف جگہوں میں آرام کرنے کے لئے پھیل گئے۔انہیں اس امر کا خیال نہیں تھا کہ کوئی دشمن