خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 648 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 648

طبات محمود ۶۴۸ سال ۱۹۳۲ء پیش آیا ، اس سے اس نے اندازہ کر لیا کہ اتنے فی صدی لوگ ایسے ہیں۔حالانکہ ممکن ہے اسکے ملنے والے ہی ایسے ہوں۔اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے اندر چونکہ خود نقائص ہوتے ہیں اس لئے اس کے ارد گرد بھی ویسے ہی لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔پھر نیسا اوقات اس کا چالیس یا پچاس فیصدی کا اندازہ اس کے اپنے دل کا آئینہ ہو تا ہے اور وہ دراصل اس کی اپنی تصویر ہوتی ہے جو اللہ تعالٰی دوسروں کی شکل میں اسے دکھاتا ہے۔لیکن اگر یہ بھی نہ ہو تو ایسا کرنے والے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک شخص جو اپنے آپ کو بڑا عقلمند خیال کرتا تھا کسی دریا پر پہنچا۔دریا کے کناروں پر پانی تھوڑا ہی ہوتا ہے۔اس نے جو دیکھا کہ کنارے پر پانی تھوڑا ہے۔مثلاً دس انچ کے فاصلہ پر اتنا ہے تو جھٹ اربعہ لگا لیا کہ آگے کتنا ہو گا اور یہ قیاس کر کے فیصلہ کر لیا کہ پانی تھوڑا ہی ہے اور اپنے بال بچوں کو لے کر اسے عبور کرنے لگا۔اب دریا کا تو پتہ ہی نہیں لگ سکتا۔ایک جگہ پایاب ہے تو دوسرے ہی قدم پر اس قدر گہرا ہو جاتا ہے کہ آدمی فوراً غرق ہو جائے۔جب بیچ میں گئے تو سب غرق ہو گئے۔وہ خود چونکہ تیرنا جانتا تھا اس لئے پار جا پہنچا۔اب کنارے پر پہنچ کر پھر اس نے اربعہ لگانا شروع کیا اور اپنے حساب کو ٹھیک پایا۔اس پر وہ بہت حیرانی کے ساتھ پنجابی زبان میں کہنے لگا۔اربعہ لگا جیوں تیوں- کنبہ ڈوبا کیوں۔یعنی اربعہ تو بالکل ٹھیک لگایا تھا پھر میرا خاندان کیونکر غرق ہو گیا۔تو ایسے شکایت کرنے والوں کی مثال بھی ایسی ہوتی ہے۔دس سے ملاقات ہوئی ان میں سے پانچ ایسے مل گئے جو سلام کرنے میں ست تھے۔بس اس سے اربعہ لگالیا کہ قادیان میں پچاس فیصدی لوگ سلام نہیں کرتے۔یا کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے جسے ساری عمر کسی کو قرض دینے کا اتفاق نہیں ہوا۔بد قسمتی سے کسی کو دو چار روپے قرض دیا اور وہی ایسا نکلا جو واپس کرنے والا نہ تھا۔پس اس سے قیاس کر لیا کہ یہاں کے سو فیصدی لوگ بد معاملہ ہیں اور قرض لے کر واپس نہیں کرتے۔غرض ایسی شکایت کو اپنی ذات میں کوئی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔لیکن چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک دو بھی ایسے ہوں تو ان کو سمجھانا میرا فرض ہے اس لئے جہاں میں اس بات کو صحیح نہیں سمجھتا وہاں یہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر چند ایک میں یہ نقص ہے تو اس کا ازالہ ہو جائے۔غرض میں اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کے خلاف اظهار ناپسندیدگی کرتا ہوں کیونکہ یہ طریق فتنہ کا موجب ہے۔اور خواہ مخواہ کی بے چینی پیدا کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ہاں خلیفہ وقت کے پاس صحیح انفار میشن پہنچانا فرض ہے۔اگر ایک شخص آئے اور کسے میں نے مولوی شیر علی صاحب کو سلام کیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔میاں