خطبات محمود (جلد 13) — Page 58
۵۸ خطبات محمود قربانیاں کرے اور ذکر الہی میں مشغول رہے وہ کب ترقی سے محروم رہ سکتی ہے خصو صاًوہ قوم جو اللہ تعالیٰ کے لئے سب کچھ کرے جو سعی و تدبیر بھی کرے اور خدا تعالیٰ کی برکت بھی اس کے شامل حال ہو وہ ضرور کامیاب ہو کر رہتی ہے۔ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کیا واقعی ہم اور ہماری اولادیں رمضان کی حالت میں سے گذر رہی ہیں۔کیا ان میں کوشش اور محنت کی عادت پیدا ہو رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ احمدیوں کی اولادیں دوسروں سے بہت اچھی ہیں مگر ان کی تربیت کے لئے جس کوشش اور قربانی کی ضرورت ہے ہم ابھی اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کر رہے حالانکہ جس طرح بڑوں کے اندر ترقی کرنے کی روح موجود ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ہماری اولادوں کے اندر ہونی چاہئے اور اس ذمہ داری کو ماں باپ کو اپنی اولاد کے متعلق اور مدرسین کو قوم کے بچوں کے متعلق اٹھا نیکی کوشش کرنی چاہئے۔اس وقت یہاں چار درسگاہیں ہیں گر لز سکول، ہائی سکول احمد یہ سکول اور جامعہ احمدیہ ان چاروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے متعلق اگر ہمارے کارکن رمضان کو مد نظر رکھیں اور کوشش کریں کہ ان کے اندر قابلیت کے ساتھ محنت اور جفاکشی کی عادات پیدا ہوں تو ہمارے لئے حقیقی رمضان آسکتا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کے اندر خواہ کتنا اخلاص کیوں نہ ہو وہ اپنے گردو پیش کے حالات سے بچپن میں جو اثر قبول کرتا ہے وہ باقی رہ جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی طبیعت سادہ تھی۔آپ کھلی کھلی بات کرنے سے ہچکچاتے نہ تھے۔بعض دفعہ غیرت یا نصیحت کے جوش میں آپ سخت الفاظ بھی کہہ دیتے تھے اور کئی بار آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔میاں یہ ہماری تربیت کا نقص ہے۔ہمارے وقت میں تربیت کے ایسے مواقع نہ تھے جیسے اب ہیں۔آئندہ نسلوں کے لئے بہتر تربیت کا موقع ہے۔اور یہ بات ٹھیک ہے۔ابتدائی لوگ خواہ اخلاص میں کتنی ہی ترقی نہ کر جائیں چونکہ ان کا بچپن ایسے لوگوں میں گذرا ہو تا ہے جو صحیح تربیت سے محروم تھے اس لئے کبھی غصہ کے وقت ان کی زبانوں پر وہی الفاظ جاری ہو سکتے ہیں جو انہوں نے بچپن میں دوسروں سے سنے تھے۔بخاری میں صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابو بکڑ کے منہ سے بھی ایک گالی کی روایت کی گئی ہے۔جو ایک شخص کو رسول کریم اللہ کے حضور میں بے ادبی کرتے ہوئے دیکھ کر بے اختیار آپ کے منہ سے نکل گئی۔لیکن جب ایمان پھیل جاتا ہے تو مومن اپنی اولادوں کی بہتر تربیت کر سکتے ہیں۔(انبیاء کی ذات مستثنیٰ ہے کہ ان کی تربیت اللہ تعالیٰ کرتا ہے)