خطبات محمود (جلد 13) — Page 609
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء آپ کی مجلس میں آیا۔وہ کچھ دنیا وی وجاہت رکھتا تھا۔اس وقت اس نے جو شلوار پہنی ہوئی تھی اس کے پہنچے ٹخنوں سے نیچے لٹک رہے تھے۔ایک اور شخص جو اس وقت وہاں بیٹھا تھا اور جو مذ ہبی جنون تو رکھتا تھا لیکن ایسا جنون نہیں جو " بکار خویش ہو شیار " ہوتا ہے۔اس نے هَذَا فِي النَّارِ کہتے ہوئے اپنی مسواک اس شخص کے ٹخنوں پر ماری اور کیا مسلمان ہو کر اپنے پاجامے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکاتے ہو۔تمہیں نہیں پتہ ہمارے رسول کریم میں نے اس کی ممانعت کی ہے۔وہ شخص مذہب سے بالکل لا پرواہ تھا اور صرف نام کا ہی مسلمان تھا بلکہ اپنے مسلمان کہلانے کو اسلام پر احسان سمجھتا تھا۔یہ دیکھ کر وہ اس احسان سے بھی دست بردار ہو گیا اور غصہ سے کہنے لگا کس بے وقوف نے تمہیں بتلایا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔غرض تبلیغ کے لئے بعض وقت جنون کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے لیکن جیسا میں نے بتلایا وہاں ویسا جنون ہی مفید ہو تا ہے جو مطلب کے وقت کمال ہوشیاری اور عظمندی کو ظاہر کرنے والا ہو۔آنحضرت کو لوگ مجنون تو کہتے تھے لیکن یہ دیکھ کر کہ آپ نہایت فرزانگی اور عظمندی کے طریقوں سے تبلیغ کرتے اور اسلام کی طرف بلاتے ہیں کہتے تھے دیوانہ تو ہے لیکن موقع شناس خوب ہے۔چنانچہ آپ کی موقع شناسی کا ایک یہ واقعہ بھی احادیث میں آیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب آپ کو اطلاع ملی کہ کفار کی طرف سے ایک سردار آرہا ہے تو آپ نے حکم دیا کہ قربانی کے تمام جانور ایک جگہ جمع کرو اور فرمایا اس شخص کو میں جانتا ہوں۔مکہ کی عظمت اور عزت ہمیشہ اس کے پیش نظر رہتی ہے۔ضرور ہے کہ قربانیوں کی یہ کثرت اس پر اثر انداز ہو۔چنانچہ یہی ہوا جب وہ شخص آپ کے ڈیرے پر پہنچاتو اونٹوں کا ایک لمبا سلسلہ دیکھ کر پوچھنے لگا یہ جانور کیسے ہیں۔جب اسے بتلایا گیا کہ یہ قربانی کے جانور ہیں تو اس پر بے حد اثر ہوا اور واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا میرا مشورہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا تم مقابلہ نہ کرو یہ کعبہ کی بہت عزت کرتے ہیں اور اس کے لئے بہت سی قربانیاں لائے ہیں۔اگر تم ان کی مخالفت کرو گے تو میں دیکھتا ہوں کہ خدا کے عذاب میں مبتلاء ہو جاؤ گے۔اب دیکھو بظاہر کتنی چھوٹی سی بات تھی لیکن معمولی سی موقع شناسی نے کتنا اہم نتیجہ پیدا کر دیا اور اس میں جھوٹ بھی کوئی نہیں تھا واقعی وہ تمام قربانی کے جانور تھے۔صرف ان کو اکٹھا کر دیا گیا تھا۔غرض تبلیغ کے لئے عقلمندی میں ڈوبے ہوئے جنون کی ضرورت ہے۔اور جہاں عقائد کی اشاعت کا سوال ہو وہاں اس مغربی تہذیب کے زیر اثر کہ شاید ہمارے اظہار حق سے اس شخص کا دل میلا ہو، اس کی اشاعت سے رُک نہیں جانا چاہئے۔کیونکہ اگر ایسے موقعوں پر ہم اپنے عقائد کو