خطبات محمود (جلد 13) — Page 593
خطبات محمود ۵۹۳ سال ۱۹۳۲ء ٹوٹ گئیں۔اور وہ سخت پریشان ہو گئے۔اگر وہ لوگ اپنا احسان جتانے والے ہوتے تو خود جا کر کہتے کہ حضرت ہم نے آپ کو اس وقت جگہ دی جبکہ آپ کے لئے کہیں جگہ نہ تھی ، آپ کے لئے ہم نے اب تک تکلیفیں اٹھا ئیں ، اب آپ کا گھر آپ کے قبضہ میں آچکا ہے آپ وہاں تشریف لے جائیے۔لیکن ایسی گفتگو کرنے کی بجائے وہ اس خیال سے ہی پریشان ہو جاتے ہیں کہ رسول کریم مدینہ کو چھوڑ کر مکہ چلے جانے کا ارادہ نہ فرمالیں اور اضطراب کی حالت میں پوچھتے ہیں حضور مکہ میں ہی تشریف تو نہیں رکھیں گے۔اس پر جب آنحضرت امی نے فرمایا نہیں میرا گھر مدینہ میں ہے ، میں مدینہ میں ہی جاؤں گا۔یہاں نہیں رہوں گا۔تب انہیں اطمینان آتا ہے غرض جو قربانی کرنے والے تھے انہیں تو یہ خیال تھا کہ ہم پر یہ احسان ہوا ہے کہ رسول اللہ ہمارے پاس ٹھہرے اور واقعی یہ بہت بڑا احسان الہی تھا کہ اتنے عظیم الشان نبی کی مہمانی کا انہیں شرف بخشا گیا۔ورنہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنے رسول کے قیام کے لئے سینکڑوں اسباب پیدا کر دیتا۔لیکن جنہوں نے کوئی قربانی نہیں کی تھی، وہ احسان جتا رہے تھے۔گویا گھر کو آگ لگانے والے کی مثال عبد الله بن ابی بن سلول کی مثال تھی۔پھر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تھوڑی سی قربانی کر کے اسے بہت بڑھا لینا چاہتے ہیں۔چندے بھیجتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑا کام کیا۔حالا نکہ وہ نہیں دیکھتے کہ اتنے بڑے بڑے کام کیا ان کے ہی چندے سے ہو رہے ہیں۔ایسے لوگ بجائے اس کے کہ ممنون احسان ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خدمت دین کا موقع عطا فرمایا الٹا اپنا احسان جتلانے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر کئی ایسے ہیں جو بڑی قربانیاں کرتے ہیں لیکن پھر من وازی کے ذریعہ انہیں ضائع کر دیتے ہیں ایسے لوگ بھی جنت میں نہیں ہوتے بلکہ دوزخ میں پڑے رہتے ہیں۔کیونکہ کام کرنے کے باوجود اس کے بدلہ سے محروم رہتے ہیں۔دیکھو بعض لوگ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و اسلام کی زندگی میں بڑی بڑی قربانیاں کیں لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اپنی قربانیوں پر انہیں ناز شروع ہو گیا۔ان کے بدلہ و عرض میں قوم کی سرداری اور لیڈری کے خواہشمند ہوئے اور اس طرح خدا کے غضب کے نیچے آگئے۔ان کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جس نے ایک باغ لگایا اس کو سینچا اس کی خبر گیری کی مگر جب وہ باغ پھل دینے کے قابل ہوا تو بجائے اس کا پھل کھانے کے انہوں نے اس کی لکڑیوں کو جمع کر کے انہیں باغ کے گرد پھیلا کر آگ لگادی۔اس طرح نہ صرف یہ کہ اس کے پھل سے محروم رہے بلکہ اس باغ کو بھی جلانے کی کوشش کی جس کی ایک وقت بڑی محنت اور جانفشانی سے انہوں نے