خطبات محمود (جلد 13) — Page 580
خطبات محمود ۵۸۰ سال ۱۹۳۲ء - تعداد ہم میں بہت کم ہے۔حالانکہ کارخانہ دار صنعت و حرفت کے کام کرنے والے ٹھیکیدار اور آزاد پیشہ ور ہی وہ لوگ ہیں کہ حکومتوں میں جیسا ان کی آواز کا اثر ہوتا ہے کسی اور کا نہیں ہوتا ملازمین کا طبعی طور پر اثر نہیں ہوتا۔زمینداروں کا بھی بہت کم ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اپنے کام کی وجہ سے شہر سے باہر رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔لیکن آزاد پیشہ ور شہروں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔مثلا ڈاکٹر شہر کو چھوڑ کر کسی جنگل میں کٹیا بنا کر بیٹھ جائے یا وکیل آبادی کو چھوڑ کر کسی بن میں پریکٹس کرانے کے خیال سے بیٹھ جائے تو نتیجہ یہی ہو گا کہ جلدی ہی فاقوں مرنے لگے گا۔اگر چہ آواز کی تکمیل شہروں اور دیہاتوں سے مل کر ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی زیادہ غلبہ شہری لوگوں کی آواز کا ہی ہوتا ہے۔دیہاتی آواز کو سننے والا ایک کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل ہو تا ہے جس کی نگاہ میں حکومت کی طاقت اور قوت تو ہوتی ہے لیکن اس کی کمزوریاں اس کے سامنے نہیں ہوتیں۔اس لئے خواہ کتنا ہی بڑا مظاہرہ اور زور دار آواز ہو ، وہ یہی سمجھتا ہے کہ اسکی کوئی حیثیت نہیں۔حکومت جب چاہے گی اسے کچل ڈالے گی یا پھر دیہاتی آوازوں کو سننے والا تھانیدار ہو گا بے شک وہ اسے سمجھے گا تو خفیف لیکن نہ اتنا خفیف جتنا کانسٹیبل سمجھتا ہے کیونکہ وہ اس سے کچھ زیادہ حکومت کے حالات سے واقف ہوتا ہے۔پھر سپرنٹنڈنٹ کا اندازہ تھانیدار سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ تمام ضلع کی رپورٹیں اسکے پاس آتی ہیں اور وہ جانتا ہے کہ یہ آواز مقامی نہیں بلکہ دوسرے علاقوں میں بھی اس کا اثر ہے۔لیکن شہروں کی آواز سننے والے بڑے افسر ہوتے ہیں اس لئے جہاں ایک طرف پبلک کی آواز ان کے کانوں میں پڑتی ہے اور اسی کے مظاہرے ان کی آنکھوں کے سامنے آتے ہیں وہاں دوسری طرف وہ حکومت کی کمزوریوں سے بھی واقف ہوتے ہیں۔اس لئے ان کے تاثرات بھی چھوٹے افسروں سے زیادہ ہوتے ہیں۔وہی مظاہرے جو ایک معمولی عہدیدار کی نظر میں معمولی ہوتے ہیں ، ایک بڑے افسر کے نزدیک ان کی حیثیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ان کی طرف متوجہ ہونا اور ان کے لئے کوئی انتظام کرنا ضروری سمجھتا ہے۔اگر ملک کے فسادات کے متعلق پولیس کی رپورٹیں پڑھی جائیں تو معلوم ہو گا کہ ایک ہی واقعہ کے متعلق ایک ہیڈ کانسٹیبل کی رپورٹ کا نسٹیبل کی رپورٹ سے مختلف ہوگی۔تھانیدار اس سے فرق کرے گا۔انسپکٹر کچھ اور فرق کے ساتھ اور سپرنٹنڈنٹ کچھ اور فرق ڈال کر اپنی رپورٹ او پر بھیجے گا۔یہ اس لئے نہیں ہو تاکہ ایک کی نگاہ میں اور واقعات ہوتے ہیں اور دوسرے کی نگاہ میں اور بلکہ وہ سب ایک ہی واقعہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ہاں اس کے تاثرات چونکہ ہر ایک اپنی حیثیت کے