خطبات محمود (جلد 13) — Page 572
خطبات محمود ۵۷۲ 66 سال ۱۹۳۲ء ہر کام میں استقلال سے کام لینا چاہئے فرموده ۹- ستمبر ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) تشهد و تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - اللہ تعالیٰ کی صفات بندوں کے لئے ایک نمونہ ہیں اور حسن کامل در حقیقت ذات الہی میں ہی پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی کی وہ ذات ہے جس کو نظر انداز کر کے ہم نیکی کی کوئی تعریف کر ہی نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہوئے دنیا نے نیکی کی تعریف کرنا چاہی لیکن قطعا کامیاب نہ ہو سکی اور یہ راہ اختیار کرنے والوں نے مونہہ کی کھائی۔بعض نے کہا نیکی وہ ہے جو انسان کی فطرت کے مطابق ہو، حالانکہ کسی کام کا فطرت انسانی کے مطابق ہونا ایسی اصطلاح ہے جس کی کوئی بھی تعیین نہیں ہو سکتی مثلا ایک ہندو سے پوچھو گوشت کھانا کیسا ہے تو وہ رام رام کہتا ہوا اسے پاپ قرار دے گا۔ایک جینی سے دریافت کرو کہ گوشت کھانا کیسا ہے تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ گوشت بھی کوئی کھانے کی چیز ہے لیکن گوشت ہی کے متعلق کسی مسلمان سے پوچھ کر دیکھو تو معلوم ہو گا کہ گوشت کے بغیر اسے کھانے میں مزاری نہیں آتا۔غرض نیکی اور بدی کے متعلق محض انسان کی فطرت کے فیصلہ کو پیش کرنا درست نہیں ہو سکتا کیونکہ بسا اوقات وہ بہت جلد مسخ کر دی جاتی ہے۔اور کوئی یقینی اور قطعی معیار ہمارے سامنے نہیں رکھ سکتی۔بعض لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ نیکی وہ فعل ہے جس سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔لیکن اسے بھی ہم کیونکر درست کہہ سکتے ہیں جبکہ کئی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض کام فائدہ مند معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً نہ صرف یہ کہ انہیں نیکی نہیں کہا جاسکتا بلکہ وہ بدیوں میں شمار ہوتے ہیں۔مثلا کوئی شخص کسی کا مال اٹھا کر لے جائے۔پھر اس شخص کو بھی جس کا مال اٹھایا گیا موقع مل جائے کہ اٹھانے والے کا سامان چوری