خطبات محمود (جلد 13) — Page 570
خطبات محمود کس طرح امن قائم ہو سکتا ہے۔ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے قائم کیا ہے کہ اس کو کا مقابلہ کرتی ہوئی حق اور انصاف کی مثال دنیا میں قائم کرنے، ہمیں یہ نہیں خیال کرنا چاہ بہنے کہ ہم قلیل اور کمزور ہیں۔اور نہ یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک قطرہ Essence (انس) کا یا ایک اونس مٹھاس کا سمندر میں ڈالا جائے تو اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔بے شک عام حالات میں اس کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔لیکن اسی امنس کے قطرہ یا مٹھاس کے اداش میں جب ایسی طاقت ہو کہ ہر طحہ گزرنے کے بعد اس کی طاقت بڑھتی جائے۔تو یقینا آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں ذخار سمند ر بھی اس قطرہ کی خوشبو کو قبول کر لے گا۔اور ایک اونس مٹھائی کی قلیل مقدار اس پر غلبہ حاصل کرلے گی۔پس ہماری جماعت کو پوری قوت کے ساتھ اس نقصان رساں اور مسلک رو کا مقابلہ کرنا چاہئے۔اور چاہئے کہ اپنے نمونہ سے اس بات کا ثبوت مہیا کرے کہ غیروں کے ساتھ بھی اس کا معاملہ صفت ربوبیت کے ماتحت ہوتا ہے۔مثلاً ہم میں سے اگر کوئی حج ہے تو اس کے تمام فیصلے انصاف کی کسوٹی پر پورے اترنے چاہئیں اور فیصلہ کرتے وقت انصاف سے علیحدہ ہو کر کسی کی رعایت مد نظر نہ ہونی چاہئے۔اسی طرح سرکاری دفاتر میں دوسروں کے حقوق کا سوال ہے۔ان کے حقوق کو پامال ہونے سے حتی الوسع بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔غرض یہ ہماری جماعت کا فرض ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ انصاف اور عدل کو وہ کبھی اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دے گی۔اور اس نوعیت کی ہر برائی سے مجتنب رہے گی۔یاد رکھنا چاہئے جو مثالیں ایک دفعہ قائم ہو جاتی ہیں۔پھر دنیا میں ہمیشہ ان کا تتبع ہو تا رہتا ہے۔شروع شروع میں تو بے شک لوگ ہمیں برابھلا کہیں گے کہ انہیں غیروں سے اپنوں کی نسبت زیادہ انس ہے۔لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کو سمجھ آجائے گی کہ درست طریق یہی ہے کشمیر کے معاملہ میں ہمیں اس کا بہت تجربہ ہوا ہے۔جب ہمارے آدمیوں نے بعض ان مقدمات میں جو کشمیری مسلمانوں پر ریاست میں چل رہے تھے ، انصاف کو مد نظر رکھ کر کچی گواہیاں دیں۔جن میں سے بعض نتیجہ بعض مسلمان مأخوذین کے خلاف پڑتی تھیں تو یہ طریق اختیار کرنے پر دوسرے مسلمانوں نے کہا کہ یہ مسلمان ہو کر ہمارے خلاف گواہیاں دیتے ہیں۔اس طرح انہوں نے اپنے ہو کر میں غیر سمجھا۔دوسری طرف حکومت پہلے خلاف تھی اس نے بھی ہماری جماعت کے لوگوں کو تکلیفیں دیں اور اس طرح ہمارے آدمی اپنے ایمان اور انصاف کی حفاظت میں دونوں طرف سے تکلیف اٹھاتے رہے۔لیکن مومن کو تکلیف