خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 566

۵۶۶ ہو تو میں اسے کس طرح روک سکتا ہوں ۱۵ پس جنت صرف غریبوں کے لئے ہی نہیں بلکہ امیروں کے لئے بھی ہے۔جب قربانی اور اخلاص سے انسان جنت کا وارث ہو سکتا ہے تو یہ قربانی اور اخلاص جو بھی دکھائے گا جنت کا دارت ہو جائے گا خواہ امیر ہو یا غریب اور قرآن مجید میں تو یہ مسیح موعود کے زمانہ کی علامت بیان کی گئی ہے کہ وَإِذَ الْجَنَّهُ از لفت 10 یعنی اس زمانہ میں جنت قریب کی جائے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کا صحیح ترجمہ وصیت ہی ہے۔یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں جنت اس طرح قریب کر دی جائے گی کہ لوگوں کو یقین ہو جائے گا کہ فلاں کو جنت مل گئی۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ قربانیوں سے اخلاص سے اور نیک نمونہ سے لوگوں پر اثر ڈالیں۔اپنے ہاتھوں اور زبان کو قابو میں رکھیں۔لڑائی بھڑائی چھوڑ دیں۔نفس کو قابو میں رکھیں اور لوگوں کو یہ نمونہ دکھا ئیں کہ جب کوئی شخص احمدیت میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنے ہاتھ اور زبان کو اپنے قابو میں رکھ کر نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے ہمسائیوں کے لئے بھی جنت پیدا کر دیتا ہے۔کیسا بد قسمت وہ انسان ہے جس کے پاس جنت ہو مگر وہ خود بھی جہنم میں پڑا ہوا ہو اور دوسروں کو بھی تکلیف میں مبتلا ءر رکھتا ہو۔پس اکڑ باز ہونا کچھ باز ہونا اور لوگوں پر اپنی حکومت جتانا یہ کوئی عزت کی بات نہیں ہوتی۔ایسے لٹھ باز کے سامنے گو کمزور لوگ کچھ نہ کہہ سکیں اور جب ایسا شخص سامنے آئے تو السّلامُ عَلَيْكُم بھی کہہ دیں لیکن پیٹھ پیچھے کہیں گے اس پر خدا کی لعنت ہو یہ بہت ہی بُرا آدمی ہے۔پس لٹھ باز ہونے میں بڑائی نہیں بلکہ خدا کے لئے قربانی کرنے اور لوگوں پر شفقت اور احسان کرنے میں بڑائی ہے۔ملنے والوں سے بد کلامی نہ کرو۔میٹھی گفتگو کرو کیونکہ یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ان سے اپنا دل بھی صاف رہتا ہے اور دوسروں کا بھی۔اور جوں جوں دلوں کی صفائی ہوتی ہے اللہ تعالٰی کی رحمتیں بھی زیادہ نازل ہوتی ہیں۔(الفضل یکم ستمبر ۱۹۳۲ء) ا مسنداحمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۱۶۲ المائدة : ۲۵ بخاري كتاب المغازی باب غزوة بدر + سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۲۶۶ ۲۶۷ مطبوعه بیروت ۱۹۳۶ء