خطبات محمود (جلد 13) — Page 52
خطبات محمود ۵۲ جھکتی جارہی ہے مگر یاد رکھو اگر مردم شماری میں اپنی تعداد پانچ لاکھ لکھانے میں بھی ہم کامیاب ہو جائیں تو گورنمنٹ ہم سے ان سے بھی زیادہ ڈرے گی جتنا تمیں لاکھ سکھوں سے ڈرتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ باوجود بہت کچھ نظام کے ہماری جماعت ابھی تک پورے طور پر منتظم نہیں ہو سکی پھر بھی جتنی منتظم ہے اس کا بھی کافی رعب ہے۔اور اگر پنجاب میں پانچ لاکھ ہی منتظم کی جاسکے تو کوئی قوم بھی مسلمانوں کے حقوق پر دست درازی نہیں کر سکے گی اور ان کے مطالبات کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکے گی۔پھر ہم مبلغ بھی ہزاروں رکھ سکتے ہیں۔مگر نقص یہی ہے کہ باوجو د نظام کے جماعت ابھی پورے طور پر منظم نہیں ہو سکی۔جماعتیں ابھی چھوٹی چھوٹی ہیں اور دور دراز علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔سینکڑوں گاؤں ایسے ہیں جہاں پانچ پانچ چھ چھ احمدی ہیں مگر سال ہا سال گزر جاتے ہیں کوئی مبلغ وہاں نہیں جاتا اور اگر جائے تو خرچ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت روز بروز بڑھ رہی ہے۔گذشتہ جمعہ میں بھی اور آج بھی مسجد اس قدر بھری ہوتی ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں جلسہ کے دنوں میں بھی اتنے لوگ نہ ہوتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری جلسہ میں تو لوگ اس قبر سے ورے ورے ہی تھے۔اس وقت جمعہ کے لئے جس قدر لوگ بیٹھے ہیں ان کی تعداد اس سے چھ سات گنا زیادہ ہے یہ اللہ تعالی کا کتنا فضل ہے۔اللہ تعالیٰ دلوں پر قبضہ کر کے اس طرف لا رہا ہے۔اگر چہ ہمارے دشمن بھی ہیں مگر وہ دل میں اتنا ضرور سمجھ رہے ہیں کہ اسلام کی خدمت کرنے والی جماعت یہی ہے اس وقت مخالفت پھر زور سے شروع ہوئی ہے مگر یہ اسی لئے ہے کہ دشمن سمجھتا ہے ہم بڑھ رہے ہیں۔اس مخالفت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دو ٹیمیں رسہ کشی کرتی ہیں اور جب ایک ٹیم دوسری کو کھینچ کر بالکل لائن پر لے آتی ہے تو وہ آخری بار پھر قدم جمانے کے لئے پورا زور لگاتی ہے۔اس وقت کھینچنے والی ٹیم کا کیا فرض ہوتا ہے یہی کہ وہ بھی ایک بار پھر پورا زور لگائے اور فتح حاصل کر لے۔پس اس مخالفت کے مقابلہ میں ہمیں ایک بار پھر پورا زور لگا کر فتح حاصل کر لینی چاہئے۔کم از کم ایک سال ہی پورے زور سے تبلیغ کرو اور سمجھ لو کہ اس سال تم اپنے لئے مرگئے اور صرف تبلیغ کے لئے زندہ ہو۔اگر تم اس طرح کرو تو پھر اگلے سال مجھے وعظ کرنے اور کہنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور کامیابی اور ترقی کی خوشی میں تم خود بخود اس کام کو کرنے پر مجبور ہوگے۔جس طرح ایک انیمی کو وقت مقررہ پر افیم کھانے کے لئے کسی بیرونی تحریک کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ خود بخود کھا لیتا ہے اسی طرح ایک سال اس طرح تبلیغ کرنے کے