خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 560

خطبات محمود ۵۶۰ سال ۱۹۳۲ء گے مگر یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید انہیں جنت میں سب سے اعلیٰ مقام میسر آئے گا۔اللہ تعالیٰ کی دلوں پر نگاہ ہے اور قلوب اس کے سامنے اسی طرح کھلے ہیں جس طرح آئینہ میں ہر چیز نظر آجاتی ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جہاں انہیں نفلوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے وہاں فرائض کی طرف سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس قسم کے ستوں اور غافلوں کی وجہ سے جو ترقی پہلے حاصل ہوا سے بھی صدمہ پہنچ جاتا ہے۔پچھلے سال جماعت کے مخلصین نے انجمن سے قرض کا بوجھ دور کر دیا تھا اور میں نے اس کا اعلان بھی کر دیا تھا مگر مجھ سے غلطی ہوئی جب بعد میں میں نے تحقیق کی تو بعض بل ابھی قابل ادا تھے۔انہیں ملا کر ایک لاکھ میں سے دس ہزار کے قریب قرض رہ گیا تھا۔اس سال پھر یہ قرض بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور اب تیس ہزار کے قریب قرض ہو گیا ہے حالانکہ ابھی ہمارے مالی سال میں سے صرف چار مہینے ہی گزرے ہیں اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا گیا تو تعجب نہیں کہ اس سال کے آخر تک پھر ایک لاکھ روپیہ تک قرض پہنچ جائے۔حالانکہ ہماری جماعت کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس سے دگنا روپیہ بھی نہایت آسانی کے ساتھ وصول کیا جا سکتا ہے مگر وہ جو کمزور ہیں اور صرف رسمی ایمان رکھتے ہیں وہ اپنا سارا بوجھ ان غریبوں پر ڈال دیتے ہیں جو پہلے ہی اخلاص سے باقاعدہ چندے ادا کر رہے ہوتے ہیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب کبھی کوئی تحریک کی جائے وہ مخلص جو پہلے ہی بوجھ کے نیچے دبے ہوتے ہیں اور زیادہ حصہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔اور منافق سمجھ لیتا ہے کہ میں اس تحریک سے مستثنی ہوں۔وہ اپنے آپ کو اسی طرح مستقلی خیال کرتے ہیں جیسا کہ میں نے اکثر دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول جب زیادہ بیمار ہوتے تو فرمایا کرتے۔لوگ اٹھ جائیں میں ہمیشہ دیکھتا کہ آپ کے اس کہنے پر کبھی سارے لوگ نہ اٹھتے بلکہ بعض اٹھ جاتے اور بعض بیٹھے رہتے۔جب آپ دیکھتے کہ اب بھی کچھ باقی ہیں تو آپ فرمایا کرتے کہ اب نمبردار بھی چلے جائیں۔ایک دفعہ ہنس کر مجھے فرمانے لگے نمبردار ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو علاقہ کا نمبردار خیال کرکے سمجھتے ہیں کہ ہمیں حکم نہیں ملا دو سروں کو دیا گیا ہے۔اسی طرح یہ منافق بھی اپنے آپ کو نمبردار خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم مستثنیٰ ہیں۔لیکن ا جماعت کا وہ حصہ جو قربانی کرتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے اخلاص اور قربانیوں کو ضائع نہیں کرے گا اور یقینا وہ اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچ رہے ہیں۔لیکن ان کی قربانیاں منافقوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھی بھڑ کا رہی ہیں۔