خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 553

خطبات محمود ۵۵۳ سال ۱۹۳۲ سے باہر نکلنے کے بعد واپس لوٹ آئے تھے انہیں میں سے وہ لوگ تھے جو کہا کرتے تھے کہ ہمارے پاس ہتھیار نہیں اس لئے ہم لڑائی کے لئے نہیں نکل سکتے ، انہیں میں سے وہ لوگ تھے جو بہانے بناتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور انہی میں سے وہ لوگ تھے جو کہا کرتے تھے کہ ہماری فصلیں کاٹنے کے دن ہیں اس لئے ہم جنگ پر جانے سے معذور ہیں۔وہ اجازتیں طلب کرتے اور درخواستیں کر کر کے رخصتیں حاصل کرتے تھے۔یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم نہیں جاتے لیکن بہر حال نتیجہ وہی ہو تا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے جواب کا تھا۔ہاں حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی اکثریت نے کہہ دیا تھا کہ ہم لڑائی پر نہیں جاسکتے لیکن رسول کریم کے ساتھیوں کی اقلیت نے کہا کہ ہم جنگ پر جانے سے معذور ہیں کیونکہ منافق اس وقت اقلیت میں تھے اکثریت میں نہ تھے اور گو انہوں نے مونہہ سے ایسا کبھی نہیں کہا لیکن عملاً وہی کچھ کیا جو حضرت موسیٰ کے ساتھیوں نے کیا۔فرق صرف اتنا ہے کہ موسیٰ کے وقت اکثر نے کہہ دیا تھا کہ ہم تیرے ساتھ جنگ پر نہیں جائیں گے اور یہاں اکثر ایسے تھے جنہوں نے رسول کریم میں کے ارشاد پر اپنی جان و مال کو قربان کر دیا۔یہاں تک کہ بدر کے موقع پر جبکہ کفار مکہ کا رعب اکثر کے دلوں پر چھایا ہوا تھا اور جبکہ رسول کریم میں کے ساتھی ابھی تازہ تازہ مکہ کے مصائب سے نکلے تھے اور جبکہ بہتوں کے پاس ہتھیار تک نہ تھے اور بہت سے ایسے تھے جو ہتھیار چلانا بھی نہیں جانتے تھے اس وقت رسول کریم میں ہی ہم نے صحابہ سے پوچھا کہ دشمن اس وقت تم سے تعداد میں زیادہ ہے، تیاری میں زیادہ ہے اور ہتھیار بھی زیادہ رکھتا ہے۔اب تم لوگوں کا کیا منشاء ہے۔مہاجرین نے جواب دیا یا رسول اللہ اہمار انشاء یہی ہے کہ ان سے جنگ کی جائے۔مگر رسول کریم کے دل میں ایک اور بات کھٹک رہی تھی اور وہ یہ کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے انصار کا فرض قرار دیا گیا تھا کہ جب تک آپ مدینہ میں رہیں گے وہ آپ کی حفاظت کریں گے۔چونکہ اب آپ مدینہ سے باہر جنگ کے لئے جارہے تھے اس لئے آپ کو یہ خیال گزرا کہ شاید انصار پر یہ گراں گزرے کہ کیوں انہیں مدینہ سے باہر جنگ کے لئے لے جایا جا رہا ہے جبکہ ان کی ذمہ داری صرف مدینہ کے اندرون حصہ تک محدود ہے اس لئے آپ نے مہاجرین کا جواب سن کر فرمایا کوئی اور بولے۔اس پر ایک اور صحابی اٹھے اور انہوں نے بھی جنگ کرنے کی تائید میں تقریر کی۔آپ نے فرمایا کوئی اور بولے۔انصار اس وقت تک اس لئے خاموش تھے کہ وہ سمجھتے تھے مہاجرین اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ گفتگو کریں کیونکہ