خطبات محمود (جلد 13) — Page 537
سال ۱۹۳۲ء محمود مقصد : ۵۳۷ نہیں ہو تا کہ گھاس نہ اُگے۔بلکہ یہ ہوتا ہے کہ درخت کو نقصان نہ پہنچے۔اور گھاس وغیرہ کی موجودگی اس کے نشوونما میں روک نہ ہو۔پس استغفار کی غرض صرف لفی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ مثبت کی حالت پیدا کی جائے یعنی استغفار بر خیالات کو ہی نہیں روکتا بلکہ نیک خیالات بھی پیدا کرتا ہے۔اس طرح استغفار روحانیت میں بڑھانے کا بھی طریق ہے صرف گھٹانے سے بچانے کا ذریعہ ہی نہیں جس طرح اصل مقصد مالی کا گھاس کی گوڑی نہیں ہو تا کیونکہ گھاس تو اپنی تر و تازگی اور سرسبزی کی وجہ سے ایک دل خوشکن چیز ہے ، بلکہ اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ زمین کی غذا گھاس وغیرہ کو پہنچنے کی بجائے اصل درخت کو پہنچے۔اسی طرح استغفار کی یہ غرض نہیں کہ انسان گناہوں سے بچ جائے بلکہ یہ ہے کہ نیکی میں ترقی کرے۔پس آنحضرت لی نے مجلس میں استغفار پڑھنے کا حکم دینے سے ہم کو نہ صرف آس پاس کے بد خیالات کے اثرات سے محفوظ رہنے کے طریق سے آگاہ کیا ہے بلکہ نیک خیالات کے پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بتلایا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اگر برے خیالات کو دبایا جائے تو ضرور ہے کہ نیک خیالات پیدا ہوں۔کیونکہ انسان کے ذہن میں خیالات تو ضرور پیدا ہوں گے۔دماغ حقیقی طور پر کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔ماہرین علم النفس نے اس بات پر بحث کی ہے کہ آیا دماغ کبھی حقیقی طور پر خالی رہ سکتا ہے یا نہیں۔آخر مجبور ہو کر وہ تمام اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ دماغ حقیقی طور پر کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔یا کم از کم میرے علم میں کسی علم النفس کے ماہر کا اس کے خلاف کوئی قول نہیں آیا۔جب وہ کہتے ہیں کہ اپنے دماغ کو خالی کر لو تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ سوائے اس چیز کے جس کی طرف توجہ درکار ہوتی ہے باقی چیزوں سے ذہن خالی ہو جائے۔غرض استغفار صرف بدیوں کو روکتا ہی نہیں بلکہ نیکیوں کو پیدا بھی کرتا ہے۔اذان بھی ایک رنگ میں استغفار کا کام دیتی ہے۔وہ بھی جہاں ایک دروازہ یعنی بدی کا دروازہ بند کرتی ہے، وہاں دو سرا دروازہ یعنی نیکی کا دروازہ کھول دیتی ہے۔جہاں وہ ایک طرف لوگوں کو نماز کی اطلاع دے کر بے نماز ہونے سے بچاتی ہے ، وہاں دوسری طرف قلب میں نماز کے لئے بشاشت بھی پیدا کرتی ہے۔جو لوگ اذان کی طرف یعنی با جماعت نماز کی طرف توجہ نہیں کرتے ان کی نمازیں خود بخود گرنی شروع ہو جاتی ہیں۔شروع شروع میں اکیلے گھر میں نمازیں پڑھنے لگ جاتے ہیں۔پھر آہستہ آہستہ نمازیں جمع کرنے لگ جاتے ہیں۔اور جلد ہی پھر بے قاعدہ ہو کر نماز کے تارک ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید نے جہاں بھی نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے وہاں آقِیمُوا الصلوة کہا ہے صرف صلوا نہیں کہا۔اور بغیر جماعت کے نمازاً قِیمُوا الصَّلوة کی ذیل