خطبات محمود (جلد 13) — Page 534
خطبات محمود ۵۳۴ سال ۱۹۳۲ء جس کے ذریعہ انسان شریعت کے احکام پر چل کر فلاح حاصل کر لیتا ہے۔غرض انسانی زندگی کی ابتداء سے لے کر اس کی انتہاء تک پیدائش عالم کی غرض اور اس کے انجام پر اذان میں زور دیا گیا ہے اور اگر انسان کی توجہ اذان کی طرف ہو تو وہ اسلام کے تمام اصول کی فلاسفی سے آگاہ ہو سکتا ہے۔ایک فقرہ جو اذان میں آتا ہے کتنا مختصر فقرہ ہے۔لیکن کتنے اہم مضامین اس میں بیان کئے گئے ہیں۔اذان میں کہا جاتا ہے کی عَلَی الْفَلَاحِ یعنی فلاح اور کامیابی کی طرف دوڑو۔فلاح کے معنی اسلام میں ہیں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جانا۔اس میں انسان کو اول تو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہئے۔اگر انسانی حالتوں کا مطالعہ کیا جائے تو 99 فیصدی ایسے لوگ ملیں گے جن کا کوئی مقصد نہیں ہو گا۔اور اگر وہ بظاہر کوئی مقصد رکھتے بھی ہوں گے تو وہ محض دھوکا ہو گا۔مثلاً اگر کوئی شخص اپنے بچے کو پڑھا رہا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میرا تعمد ا سے تعلیم دلانا ہی ہے یا کوئی کتاب تصنیف کر رہا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اسے تصنیف کرنا ہی میرا مدعا ہے لیکن یہ چیزیں انسانی زندگی کا مقصد نہیں قرار دی جاسکتیں کیونکہ وہ انسانی زندگی کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہیں لیکن انسانی زندگی کا مقصد وہ ہونا چاہئے جس کی ابتداء انسانی زندگی کی انتہاء سے شروع ہو - حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ میں میں یہ بتلایا گیا ہے کہ تمہارا کوئی مقصود ہے جس کی طرف تمہیں سعی کرنی چاہئے اور یہ صاف بات ہے کہ جب بھی ہم اپنی زندگی کا کوئی ایسا مقصد بنا ئیں گے جو اس زندگی کے بعد بھی حاصل رہے تو وہ اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا۔کیونکہ دنیا کی چیزیں اسی دنیا میں ختم ہو جاتی ہیں لیکن خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔پس اگر کوئی یہ مانے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد اور مدعا ہو نا چاہئے تو اس کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ذات باری کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔جب حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جو نہ ختم ہونے والی ہے اور جس کے ساتھ ہمارا تعلق ہمیشہ کے لئے ہو سکتا ہے ، وہ خدا ہے تو ہم کو مانا پڑتا ہے کہ ہماری اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستگی ضروری ہے۔پھر دوسری چیز ہمیں حَتى عَلَى الْفَلَاحِ میں یہ نظر آتی ہے کہ جلدی آؤ اس میں ایک طرف تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا بالکل بے ثبات ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ تا انسان کی غفلت دور ہو اور وہ ہر وقت نیک کاموں کے لئے مستعد اور تیار رہے۔دیکھو ! موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔اگر انسان کو پتہ ہو تاکہ میری اتنی عمر ہوگی تو وہ نیک کاموں سے غافل رہتا۔اس خیال سے کہ ابھی اتنی زندگی باقی ہے جب تھوڑی سی رہ جائے گی نیک کام کرلوں گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے انسان کو اس کی موت کا وقت نہیں بتایا۔ہم