خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 533

62 سال ۱۹۳۲ء اذان کی حکمتیں اور نماز باجماعت کی تاکید ا فرموده ۱۲- اگست ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔رسول کریم و از ان کو اتنا محبوب رکھتے تھے کہ تاکید فرمایا کرتے تھے۔اگر سفر میں چند آدمی بھی ہوں تو بھی اذان اور اقامت کہہ کر نماز پڑھیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اصل غرض از ان سے نماز کے لئے لوگوں کا جمع کرنا ہے اور وہ غرض مسجد کے ساتھ ہی پوری ہو سکتی ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اذان میں ایک ایسی بڑی بھاری تبلیغ بھی ہے۔اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو نماز کے لئے اذان کہنا ضروری ہے۔کوئی اذان سن کر نماز میں شامل ہو یا نہ ہو لیکن اس سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کا مذہب کیا ہے۔دوسرے اذان مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ان کو تبلیغ کا فرض ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے اور چاہئے کہ کبھی اس سے غافل نہ ہوں۔تیرے یہ کہ خود انسان کے اپنے قلب پر اس کا نہایت گہرا اور اعلیٰ اثر ہوتا ہے اور نماز کی طرف رغبت اور اس کے اغراض اس سے معلوم ہوتے ہیں۔کیونکہ اذان باوجود مختصر الفاظ رکھنے کے اسلامی تعلیم کا خلاصہ اپنے اندر رکھتی ہے اور اگر اذان کے الفاظ سے کوئی شخص اسلام کی تشریح شروع کرے تو وہ کئی جلدوں کی کتاب تیار کر سکتا ہے۔توحید اور اسلامی توحید رسالت اور اسلامی رسالت رسالت کے ماننے اور اس کی ضرورت ان سب امور کو اذان میں بیان کیا گیا ہے۔پھر اذان میں انسان کو اس طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ اس کے لئے کون سے فرائض مقرر کئے گئے ہیں اور ان کی ادائیگی کیونکر ہو سکتی ہے۔شریعت کے احکام کی کیا غرض اور کیا علمتیں ہیں۔انسان کا خدا کے ساتھ کیا تعلق ہے اور خدا کا انسان سے کیا واسطہ ہے۔پھر آخر میں وہ نتیجہ بیان کیا گیا ہے