خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 530

خطبات محمود ۵۳۰ سال ۱۹۳۲ء کر کھڑے ہو گئے کہ میں اس شخص کا سر اُڑا دوں گا جو یہ کہے گا کہ آنحضرت میں یم فوت ہو گئے ہیں۔کتنا عظیم الشان فرق معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک وقت تلوار لے کر مارنے کے لئے جاتا ہے اور دوسرے وقت وہی تلوار لے کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ جو آنحضرت میر کو فوت شدہ کے گا میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔یا تو وہ آپ کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے جاتا ہے یا یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی مونہہ سے بھی کہے کہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔یہ نتیجہ تھا اس محبت اور اخلاص کا جو آنحضرت تم کو دشمنوں تک کے ساتھ تھا۔قرآن کریم میں رسول کریم کے متعلق آتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم کہ تمہاری تکلیف اس سے دیکھی نہیں جاتی۔یہ وہ محبت تھی جس نے ارد گرد کے لوگوں کے دلوں میں آپ کی ایسی محبت کا بیج بو دیا کہ صحابہ ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہو گئے اور دشمنی چھوڑ کر آپ کے جانی دوست بن گئے۔یہ صحیح ہے کہ ہر انسان ایسے نشان نہیں دیکھتا لیکن نشان دیکھنے کے لئے خدا کی محبت کا ہونا لازمی ہے۔اگر بندہ کے دل میں خدا کی محبت نہیں تو خدا کی محبت اسکے مقابل پر نازل نہیں ہوتی اور اگر ایک شخص خطا کار بھی ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں ہو تو خدا کی محبت اس پر ضرور نازل ہوگی۔جیسے ماں باپ اپنے خطا کار بچے سے بھی محبت رکھتے ہیں کیونکہ بچے کے دل میں بھی ماں باپ کی محبت مرکوز ہوتی ہے۔پس اگر ہم غور سے دیکھیں تو ایسے بہت سے انسان نظر آجاتے ہیں جن کے کام بغیر ظاہری اسباب کے بن جاتے ہیں۔بلکہ میں تو یقین رکھتا ہوں کہ اگر انسان خود اپنے حالات پر ہی غور کرے تو اسے اپنی زندگی میں ہی کئی موقعے ایسے نظر آئیں گے جن کا نام وہ اتفاق رکھ لیتا ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔اب اس کا تو کوئی علاج نہیں کہ جب اللہ تعالی کسی سے محبت کا سلوک کرے تو وہ کہہ دے کہ یہ فلاں سبب کا نتیجہ اور ایک اتفاقی بات ہے لیکن حق یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اس کو مانا چاہئے کہ اس کے پیچھے کوئی مخفی طاقت تھی جو کام کر رہی تھی اور وہ خدا تعالی کی محبت تھی۔ابو جہل کی زندگی میں بھی کئی ایسے واقعات ہوئے ہوں گے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور دعا کی ہوگی اور وہ پوری ہو گئی ہوگی۔اور مؤمنوں کی زندگی میں تو ایسے بہت واقعات ہوتے ہیں کہ خدا نے بظاہر بغیر اسباب کے انکے کام کر دیئے۔یہی ہے کہ عوةُ الْحَقِّ یعنی حقیقی پکار جس کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے۔باقی تمام چیزوں کی پکار برائے نام ہوتی ہے۔ان کو