خطبات محمود (جلد 13) — Page 489
خطبات محمود ۴۸۹ سال انسان جد و جہد کے باوجود وہیں کے وہیں رہتے ہیں تم اگر دین و دنیا دونوں ماحول کی کشمکش میں پڑ جاؤ گے تو تمہاری بھی یہی حالت ہوگی۔پس اپنے ماحول کا خیال رکھو اور روحانی آنکھیں پیدا کرو۔یہاں یہ بات نفع نہیں دے سکتی کہ طلباء کے سامنے فلسفہ پر تقریریں کرتے رہو اور قرآن اور حدیث کے متعلق کہو دیکھا جائے گا قادیان میں رہ کر یہ چیز کامیابی کا موجب نہیں بن سکتی اور یہ بات کہہ کر تم ان کو ہشیار نہیں کرتے اور فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ سخت نقصان پہنچاتے ہو کیونکہ تم ان کے بچے عزم کو توڑتے ہو۔جس بچے کے کان میں دو مختلف باتیں ڈالی جائیں اس کا کیا عزم باقی رہ سکتا ہے تم خیال کرتے ہو کہ یہ اسکی خیر خواہی ہے۔حالانکہ اس چیز کو کاٹ رہے ہوتے ہو جس سے اس نے ترقی کرنی ہوتی ہے۔دنیا میں انسان یا تو عزم سے ترقی کر سکتا ہے یا خدا کے فضل سے نماز روزہ سے ترقی نہیں ہوتی بلکہ خدا کے فضل سے ہوتی ہے اسی طرح انگریزی اور حساب کی لیم سے نہیں ہوتی بلکہ عزم سے ہوتی ہے تم نے دیکھا ہو گا بعض بڑے بڑے عالم بھوکوں مرتے ہیں اور بعض جاہل ترقی کر جاتے ہیں بعض لمبی لمبی نمازیں پڑھنے والے ذلیل ہو جاتے ہیں۔اور اس سے ہلکی نمازیں پڑھنے والے خدا تعالیٰ کے فضل کے جاذب ہو جاتے ہیں۔پس تم طالب علم کے عزم کو نہ تو ڑو۔جس طالب علم کے کان میں متواتر یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ دین کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔اس کے دوسرے کان میں اگر تم یہ کہتے ہو کہ ان چیزوں پر وقت خرچ کرنے سے تم امتحان میں فیل ہو جاؤ گے تو تم اسے حیران و پریشان کر دیتے ہو۔اور اس کے عزم کو توڑ کر دین و دنیا دونوں کی کامیابی سے دور پھینک دیتے ہو۔تیمور اور نپولین نے دنیا میں عزم سے ہی ترقی کی دنیوی علوم سے نہیں عزم سے ہی وہ اس قدر بلند ہو گئے مگر جس رستہ پر تم طالب علموں کو ڈالنے کی کوشش کرتے ہو وہ عزم کی جڑ کو کاٹنے والا ہے۔اس سے تو یہ بہتر تھا کہ انہیں پاگل بنا دیتے مگر عزم کو نہ توڑتے اس صورت میں بھی وہ دنیا کو فتح کر لیتے۔مگر ایسا عالم جو تم پیدا کرنا چاہتے ہو۔شیش محل کا کتا ہے۔جو ہر طرف حیران و پریشان ہو کر بھاگا بھاگا پھرتا ہے۔جس کے کان میں دو مختلف آواز میں ڈالی گئیں۔اس کے دل سے عزیمت استقلال اور ارادہ تم نے نکال دیا۔اور اس طرح جب تم سمجھ رہے ہو کہ اسے اچھی غذا کھلاتے ہو دراصل زہر کا پیالہ پلا رہے ہو وہ پاگل جس کے اندر عزم ہے بہت بہتر ہے اس عالم سے جس کے اندر عزم نہیں۔قرآن کریم نے بتایا ہے کہ بعض عالموں کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے گدھے پر کتابیں لاد دی جائیں اور تم ایسے ہی عالم پیدا کرو گے اگر ان کے عزم کو تو ڑ دو گے۔بڑائی عزم سے ہوتی ہے اگر اسے تم