خطبات محمود (جلد 13) — Page 412
خطبات محمود سال ۶۱۹۳۲ حضور کوئی نجات کی صورت ہے وہ شخص ظاہر میں تو عالم تھا مگر اصل میں ہل تھا اس نے گناہوں کی فہرست کو سن کر کہہ دیا تجھ جیسے گنگار کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔اس نادان نے اپنے دل کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان فضلوں پر نظر نہ کی۔کہنے لگا تیرے لئے نجات کی کوئی صورت نہیں اس شخص نے کہا جب میرے لئے نجات کی کوئی صورت نہیں اور میں نے ضرور دوزخ میں ہی جاتا ہے تو جہاں میرے اور سینکڑوں گناہ ہیں ان میں اگر ایک اور کا اضافہ ہو جائے تو کیا حرج ہے۔یہ کہ کر اس نے تلوار نکالی اور اس عالم کہلانے والے کو قتل کر دیا۔پھر خیال آیا کہ یہ تو بیوقوف تھا اس نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو محددو کر دیا ممکن ہے کسی اور سے اگر میں ملوں تو وہ میرے گناہوں کی معافی کا کوئی طریق بتا سکے۔وہ یہ سوچ کر پھر گھر سے نکلا اور ایک اور عالم کے پاس گیا وہ بھی ویسا ہی تھا یعنی کو ظاہر میں عالم دکھائی دیتا تھا مگر دل کا جاہل تھا۔اس سے جب ذکر کیا تو اس نے بھی کہہ دیا کہ تیری نجات نہیں ہو سکتی۔اس نے کہا جب میری نجات نہیں ہو سکتی تو ایک گناہ اور کر لینے میں کیا حرج ہے یہ کہہ کر اس نے تلوار نکالی اور اس کی بھی گردن اڑادی اسی طرح وہ اور لوگوں کے پاس جاتا رہا وہ اسے یہی جواب دیتے رہے اور یہ انہیں قتل کرتا رہا یہاں تک کہ اس کے ۹۹ قتل ہو گئے آخر کسی نے اسے کہا کہ بے وقوف یہ تو حقیقی عالم نہیں فلاں شخص روحانی عالم ہے تم اگر اس کے پاس جاؤ تو وہ ضرور تمہاری نجات کی کوئی نہ کوئی صورت بتادے گا کیونکہ اس کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے ہر شخص کے لئے کھلے ہیں اور کوئی شخص کتناہی کنگار کیوں نہ ہو اگر وہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکے تو خدا تعالیٰ اپنی مغفرت کے دامن میں اسے چھپا لیتا ہے۔رسول کریم ما دار السلام فرماتے ہیں وہ یہ خیال کر کے چل پڑا کہ اس روحانی عالم سے بھی مل کر دیکھوں ممکن ہے میری نجات کی کوئی صورت نکل آئے لیکن وہ ابھی راستہ ہی میں تھا کہ بیمار ہو گیا اور اس کی جان نکل گئی تب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے فرشتے بھی آئے اور اس کے عذاب کے ملائکہ بھی اور ان میں جھگڑا ہو گیا۔عذاب کے فرشتے کہیں کہ ہم اس کی روح کو دوزخ میں لے جائیں گے کیونکہ یہ ساری عمر قاتل بد کردار اور خونریز رہا ہے اور رحمت کے فرشتے کہیں ہم اسے جنت میں لے جائیں گے کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ تلاش کرتا پھرتا تھا مگر نادان اس پر یہ دروازہ بند کر دیتے رہے آخر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے فرمایا اس زمین کو ناپا جائے جس کی طرف سے یہ سفر کر کے آیا ہے اور اس زمین کو بھی ناپا جائے جس کی طرف اس نے جانا تھا اور دیکھا جائے