خطبات محمود (جلد 13) — Page 399
خطبات محمود ۳۹۹ سال ۱۹۳۲ء اس وقت تنگ ہو جاتی ہے۔اور لوگ انسانوں کی بنائی ہوئی چیزوں کے نیچے پناہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔ہمیں اس سے ایک سبق ملتا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل جب بھی نازل ہوں وہ اپنے ساتھ کچھ تکالیف کے پہلو بھی رکھا کرتے ہیں۔اور جتنا جتنا اس کا فضل وسیع ہو اتنا ہی ان تکالیف کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔بارش اگر سو میل کے اندر اندر ہو رہی ہوگی تو سو میل کے اندر جس قدر لوگ ہوں گے ، انہیں کچھ نہ کچھ تکلیف پہنچے گی اور اس کی وجہ سے ان کے کاموں میں کچھ نہ کچھ ابتری پیدا ہو جائے گی۔لیکن یہی بارش اگر ہزار میل کے اندر ہو تو ہزار میل کے اندر کے لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔پس جب بھی دنیا میں اللہ تعالٰی کے فضل نازل ہوتے ہیں ان کے ساتھ دو قسم کی ہی تکالیف نازل ہوا کرتی ہیں۔ایک قسم کی تکلیف منکروں کے لئے ہوتی ہے اور ایک قسم کی تکلیف ماننے والوں کے لئے چنانچہ اس بارش کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی تکالیف کا ذکر فرمایا ہے اور پہلے ہی پارہ میں اُو كَصَيِّبِ مِنَ السَّمَاءِ فِيْهِ ظُلُعَتٌ وَرَعْدُ وَ بَرْقُ : کی مثال دے کر بتایا ہے کہ جب بارش آتی ہے تو اس کے ساتھ ہی بجلی اور کڑک بھی ہوتی ہے جو شخص بزدل ہوتا ہے بہت دفعہ بجلی کے کڑکنے سے اسے نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔اور بعض دفعہ بجلی گر کر مالی یا جانی نقصان بھی پہنچا دیتی ہے۔اور جو بزدل نہیں ہو تا وہ اپنے گھر میں بیٹھ جاتا ہے یا جو زمیندار ہوتے ہیں انہیں کھیتوں میں جانا پڑتا ہے۔غرض اللہ تعالی کی طرف سے جس قدر فضل نازل ہوتے ہیں وہ اپنے ساتھ کچھ مصائب کے پہلو بھی رکھا کرتے ہیں تاکہ جو کمزور لوگ ہوں وہ اس الہی فضل میں حصہ نہ لے سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میرا راستہ آسانی سے عبور ہو سکے گا وہ عبث دوستی کا دم بھرتے ہیں۔انہیں کیا معلوم کہ میرے سامنے کون کون سے پر خطر بادیہ در پیش ہیں۔میرے ساتھ وہی شخص چل سکتا ہے جو یہ خیال نہ کرے کہ اسے پھولوں کی پیج پر سے گزرنا پڑے گا بلکہ وہ یقین رکھے کہ اسے کانٹوں اور دشوار گزار گھاٹیوں کو عبور کرنا ہو گا۔سے پس وہی شخص اللہ تعالٰی کے انعامات سے حصہ لے سکتا ہے جو ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کرنے اور ہر قسم کی قربانیاں کرنے کے لئے تیار رہے۔جب بارش بھی جو اللہ تعالیٰ کے اور عظیم الشان انعامات کے مقابلہ میں کوئی زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ، اپنے ساتھ تکلیفوں کا پہلو ر کھتی ہے اور یہ بھی تھوڑی دیر کے لئے ہمارے کاموں کے دائرہ کو محدود کر دیتی ہے تو اس سے زیادہ فضل اپنے ساتھ کس قدر تکالیف نہ رکھیں گے۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو ہمیشہ یہ امرید نظر