خطبات محمود (جلد 13) — Page 398
خطبات محمود ٣٩٨ 48 سال ۱۹۳۲ء خدا کا فضل اپنے ساتھ تکلیف بھی رکھتا ہے (فرموده ۲۵ مارچ ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔چونکہ مجلس شوری کی وجہ سے نماز جمع ہوگی اور اس وقت بارش بھی ہو رہی ہے جسکی وجہ سے خطبہ کو اور بھی مختصر کرنے کی ضرورت ہے اس لئے میں اس وقت ایک چھوٹے سے خیال کے متعلق جو ابھی مجھے اس مجلس کی حالت اور بارش کے نظارے کو دیکھ کر دل میں پیدا ہوا ہے نهایت مختصر سا مضمون بیان کرنا چاہتا ہوں۔بارش اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک عرصہ تک بارش نہ ہو تو باوجود نہروں کے ملک میں قحط کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔کیونکہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے دریاؤں کے پانی خشک ہو جاتے ہیں اور نہریں چونکہ دریاؤں پر ہی انحصار رکھتی ہیں اس لئے دریاؤں کا پانی خشک ہوتے ہی نہریں بھی خشک ہو جاتی ہیں اور دریا خود بارش پر انحصار رکھتے ہیں کیونکہ ان کا پانی بھی پہاڑوں کی چوٹیوں سے جہاں برف بھی ہوتی ہے آتا ہے۔اور برف پہاڑی بارش کا ہی نام ہے۔پس در حقیقت تمام دنیا کا انحصار اس بارش پر ہے۔نہ صرف ظاہری کھیتوں اور پھلوں کا بلکہ حیات انسان کا مدار بھی پانی پر ہی ہے۔چنانچہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَي " ہم نے ہر چیز کو پانی کے ذریعہ زندگی بخشی ہے۔لیکن باوجود اتنے فضل والی چیز کے جس وقت بارش نازل ہوتی ہے کس طرح لوگ سمٹ سمٹ کر چھوٹی سے چھوٹی جگہوں میں جمع ہو جاتے ہیں۔وہ خدا کی وسیع زمین جو اس لئے اس نے بنائی ہے تاکہ انسان اس میں پھرے اور اپنی دماغی اور جسمانی اور روحانی صحت حاصل کرے ، وہ تمام زمین