خطبات محمود (جلد 13) — Page 391
خطبات محمود سال ۲ ڈال دیا جائے اس طرح روحانی بیماریوں کو لوگ چھپاتے ہیں اس خیال سے کہ لوگ ان سے نفرت نہ کریں کیونکہ روحانی بیماریوں کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ ان کو بھی رحم کی نظر سے دیکھا جاتا جس طرح جسمانی بیمار کو رحم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔معلوم نہیں یہ خیال کب سے شروع ہوا لیکن جب سے روحانی بیماروں کو حقیر و ذلیل قرار دیا گیا اسی وقت سے روحانی بیماران بیماریوں کو چھپانے پر مجبور ہوئے اور اس طرح ان بیماریوں کو ترقی) ہوتی گئی۔یہ حقارت لوگوں میں صرف عملا ہی نہیں پائی جاتی بلکہ بعض مذاہب نے تو اس کو مذہب کا جزو قرار دیدیا ہے اور ایسے لوگوں کو ذلیل و حقیر قرار دیا ہے جیسے بعض مذاہب کہتے ہیں کہ گناہ کا ارتکاب جب ایک دفعہ ہو جائے تو پھر وہ معاف نہیں ہو سکتا اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو کوئی روحانی مرض لاحق ہو گیا وہ کبھی صحت یاب نہیں ہو سکتا۔اور اسے روحانی صحت کی طرف سے بالکل مایوس کر دیا گیا اور جو مریض مایوس ہو جائے وہ صحت یاب نہیں ہو سکتا اس کے مقابلہ میں جیسے کوئی ڈاکٹر کسی مریض سے کے کہ تیر ا علاج ہو سکتا ہے تو وہ چونکہ مایوس نہیں ہوتا اس لئے بسا اوقات شفایاب ہو جاتا ہے۔پھر بعض مذاہب ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ گناہ خواہ قابل عفو ہی کیوں نہ ہو جب تک اس کی سزا نہ بھگت لی جائے اس سے بریت نہیں ہو سکتی مگریہ بریت نہیں ہوتی کیونکہ جرم کی سزا تو بھگت لی۔بریت اس وقت ہو سکتی ہے کہ جب یہ کہنا کہ وہ چیز جو گناہ کی وجہ سے پیدا ہوئی اس کے اندر سے نکل گئی ہے لیکن سزا کے بھگتنے سے مراد تو یہ ہوتی ہے کہ وہ علت اس کے اندر تو ہے لیکن اس کے نتیجہ کو زائل کر دیا گیا ہے حالانکہ یہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ جب مادہ فاسد اندر ہے تو وہ پھوٹے گا اور ہر دفعہ اس کو اس کی سزا بھگتنی پڑیگی۔ان کے مقابلہ میں اسلام یہ کہتا ہے کہ گناہ بھی مرض کی طرح ہے اور انسان اس سے شفا پا سکتا ہے اور تندرست ہو سکتا ہے چنانچہ رسول کریم فرماتے ہیں۔التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذنب لها کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہوتا۔گویا دونوں برابر ہو جاتے ہیں بالفاظ دیگر اس شخص کے اندر سے گناہ کے تمام اثرات دور ہو جاتے ہیں اس کی تفصیل یہ ہے کہ جیسے حضرت نبی کریم نے فرمایا۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کا دل سارے کا سارا سیاہ ہو جاتا ہے ۲۔لیکن اس میں کسی جگہ کچھ سفیدی باقی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ اس کا سارا دل سفید ہو جاتا ہے اسی طرح ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کا دل نورانی ہو تا ہے مگر اس میں ایک ذرہ صلی فروم صلی والی روم