خطبات محمود (جلد 13) — Page 34
خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۱ء حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے ایک چھوٹی عمر کے بچہ کو روزہ رکھوایا گیا۔جس سے وہ سخت تکلیف میں مبتلاء ہو گیا۔مگر اسے مجبور کیا گیا کہ کچھ نہ کھائے پیئے۔ادھر افطاری کے لئے بڑے زور و شور کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔دور نزدیک سے لوگ جمع ہو رہے تھے لیکن جب اذان ہوئی تو اس غریب نے جان دے دی۔یہ کوئی دین یا ثواب کا کام نہیں بلکہ عذاب اور وبال ہے۔دین وہی ہے جو عقل کے مطابق ہو۔ہمارا کام ہے کہ نگرانی کریں اور صحیح راستہ لوگوں کو بتا ئیں۔اگر ہمارے الفاظ سے کسی کو غلطی لگتی ہے اور ان سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے تو وہی زبان پھر بھی موجود ہے۔دوسری بار اس غلطی کو دور کیا جا سکتا ہے۔مگر یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنی اپنی شریعت بنا لیں اور ہم زبان بند رکھیں اس خیال سے کہ ہمارے الفاظ سے کسی کو غلط فہمی نہ ہو جائے۔پس دین کو رسم نہ بناؤ۔دین نے جو سختیاں اور سہولتیں اور جو درمیانی راستے بتائے ہیں انہیں کھول کھول کر بیان کرو اور جن کو ٹھو کر لگ جائے انہیں پھر سمجھاؤ۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور مامورین کا سلسلہ اسی لئے قائم کیا ہے کہ لوگوں کی غلطیوں کی اصلاح ہو۔میں امید کرتا ہوں کہ احباب جماعت اس مہینہ کا رہی اعزاز کریں گے جس کا یہ مستحق ہے اور انہیں شرائط کے ساتھ کریں گے جو شریعت نے مقرر کی ہیں۔دین کے بارہ میں نہ تو وہ نرمی اختیار کریں گے جو ایسے لوگوں نے اس میں داخل کر دی ہیں جو الحاد کے مرتکب ہو رہے ہیں اور نہ وہ سختیاں قبول کریں گے جن سے دین ایک رسم بن کر رہ گیا ہے بلکہ درمیانی راستہ اختیار کریں گے۔الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۳۱ء) ابراهیم ۲۵ ل بخاری کتاب الزكوة باب اخذ صدقة التمر عند صرام القتل بخاری کتاب الصوم باب تعجيل الافطار البقرة:١٨٨ ه بخاري كتاب الصوم باب لا يمنعكم من سحور كم اذان بلال ل بخاری کتاب الصوم باب تعجيل الافطار بخاری کتاب الصوم باب تعجيل الافطار