خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 376

خطبات محمود 44 کشمیر کے مظلومین کی امداد کرو۔(فرموده ۱۹- فروری ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مجھے اس وقت درد سر کی شکایت ہے اس لئے زیادہ نہیں بول سکتا۔نیز بعض ضروری ملاقاتوں کی وجہ سے جمعہ کی تیاری میں دیر ہو گئی اور وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے نہایت اختصار کے ساتھ احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے رمضان المبارک کے ایام میں دوستوں کو نصیحت کی تھی کہ جہاں اور امور کے لئے دعا کریں، وہاں کشمیر کے مسلمانوں کے لئے جو انتہائی تکلیف اور تعدی کے ہاتھوں میں گرفتار ہیں اور طاقت نہیں رکھتے کہ ظلم اور تعدی کا مقابلہ کر سکیں، دعائیں کریں۔میں نے بتایا تھا کہ حکومتیں گو اپنے زور اور طاقت سے کام لیتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنے بندوں کے لئے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ امن سے رہیں اور فساد نہ کریں ، وہاں ان کی تکالیف دور کرنے کے لئے راستے بھی رکھے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی شان سے بعید ہے کہ وہ یہ تو حکم دیتا کہ بعض مواقع پر ہاتھ نہ اٹھاؤ مگر ساتھ ہی تکالیف سے نجات پانے کا کوئی راستہ نہ رکھتا۔ان راستوں میں سے ایک راستہ دعاؤں کا ہے۔جب کوئی شخص مظلومیت کی حالت میں یا مظلوم کی حمایت کی حالت میں دعا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ ان دعاؤں کو سنتا ہے۔مظلومین کشمیر کے لئے دعاؤں کا پہلا نتیجہ جو ظاہر ہوا ہے وہ وزیر اعظم ریاست کشمیر کی جو وہاں کے بہت سے واقعات کے ذمہ دار ہیں علیحدگی ہے۔جو بظاہر تو خرابی صحت کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن حقیقتاً اس وجہ سے ہے کہ خدا تعالی نے بعض با اختیار لوگوں پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ فسادات کے لمبا ہونے میں وزیر اعظم کا دخل ہے اور اس وجہ سے ان کو مجبور کیا گیا ہے کہ اپنے عہدہ سے علیحدہ ہو جائیں۔میں نے کہا تھا کہ مہاراجہ صاحب کے والد نیک آدمی تھے اور وہ خود نوجوان اور نا تجربہ کار ہیں۔اور میں ڈرتا