خطبات محمود (جلد 13) — Page 372
خطبات محمود ۳۷۲ سال ۱۹۳۲ء سامانوں کے ساتھ ریاست کے مقابلہ کا اعلان جنگ کر دینا چاہئے۔اور وہ جنگ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان اس مہم کے سر کرنے کے لئے اپنے آپ کو بطور والنٹیٹر ز پیش کریں۔اور وہ اپنے عمل سے دکھا دیں کہ اگر ان کے بھائیوں کو ریاست سے نکال دیا گیا ہے تو وہ ان کی جگہ کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان اس طرف توجہ کریں جنہوں نے ابھی تک کوئی ملازمت اختیار نہیں کی یا کوئی کام شروع نہیں کیا اور میں سمجھتا ہوں ایسے سینکڑوں نوجوان ہیں تو اس معاملہ میں ہمیں بہت جلدی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔کئی ہیں جو مہینوں سے اپنی تعلیم سے فارغ ہو چکے اور اب وہ ملازمت کے انتظار میں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے روٹیاں توڑ رہے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے اوقات کو رائیگاں نہ کھو ئیں بلکہ اسے کسی اچھے کام پر لگائیں اور اس سے زیادہ اچھا کام اور کیا ہو سکتا ہے کہ انہیں قوم اور ملک و ملت کی خدمت کرنے کی توفیق ملے۔ایسے نوجوان جو تعلیم یافتہ ہوں خواہ مولوی فاضل ہوں یا انٹرنس پاس ہوں یا ایف۔اے ہوں یا بی۔اے ہوں بشرطیکہ تعلیم سے فارغ ہو کر ب کسی ملازمت کی تلاش میں ہوں ان کا فرض ہے کہ وہ قومی خدمات کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔انہیں کیا معلوم کہ پیشتر اس کے کہ انہیں کوئی نوکری ملے وہ وفات پا جائیں۔اور اسی طرح بغیر کوئی مفید کام کئے وہ اس دنیا سے گزر جائیں۔موت کا انسان کو پتہ نہیں اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ کل اس پر کیا گزرے گی۔پس بغیر کسی مزید انتظار کے انہیں چاہئے کہ وہ ایسا کام کریں جس میں قوم کی بھی خدمت ہے اور اپنے نفس کا بھی فائدہ - ایک نوجوان کے لئے اس سے زیادہ شرم کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ فارغ ہو کر اپنے ماں باپ کے لئے بوجھ بنا بیٹھا ہو اور وہ ان کو کچھ کما کر کھلانے کی بجائے اپنے گزارے کے لئے ان پر بوجھ ڈالتا ہو۔پس نوجوانوں کے لئے یہ ایک نہایت ہی مبارک موقع ہے انہیں چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنے نام پیش کریں۔میں پھر اپنی جماعت کے نوجوانوں کو خواہ وہ قادیان کے ہوں یا باہر کے تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس کام میں شریک ہوں اور جائز طور پر اپنی زندگیوں سے مفید کام لیں۔جائز طور سے مراد میری یہ ہے کہ جنہیں ایسے کاموں میں حصہ لینا ممنوع نہ ہو گورنمنٹ کے جس قدر ملازم ہیں انہیں حصہ نہیں لینا چاہئے کیونکہ ان کا گورنمنٹ سے معاہدہ ہے لیکن وہ جو ملازم نہیں یا اپنا کوئی کام کرتے ہیں ایسے نوجوان قادیان میں بھی بہت ہیں اور باہر بھی انہیں اپنے نام پیش کرنے چاہئیں۔کئی ہیں جنہیں نوکریوں کی تلاش ہے۔کئی ہیں جنہیں صنعت و حرفت کا اشتیاق ہے۔اور