خطبات محمود (جلد 13) — Page 339
خطبات محمود ۳۳۹ سال ۱۹۳۲ء آہوں کو دعاؤں سے نہیں بدل لیں گے تو خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلاء ہوں گے۔اور آپ کی طاقت یا انگریزوں کی امداد آپ کے کام نہیں آئے گی۔جو لوگ ان کو مسلمانوں کے حقوق دینے سے روک رہے ہیں وہ ان کے دشمن ہیں۔کاش وہ اپنی جان اور اپنے خاندان پر رحم کریں اور آسمانی تیروں سے ڈر کر تمھیں لاکھ انسانوں کو آزاد کر دیں۔تا اللہ تعالی کی گرفت سے بچ جائیں اور اس کے فضلوں کے وارث ہو سکیں۔مگر شاید ان کے کان میں یہ بات ڈالنے والا کوئی نہیں۔افسوس کہ وہ اموال اور اشیاء جو خد اتعالیٰ نے انسان کو اس لئے دی تھیں کہ بنی نوع کی خدمت کر سکے اور ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب اور رحمت حاصل کرے انہیں وہ بہت بڑی چیز سمجھ کر کسی کی پرواہ ہی نہیں کرتا۔ان کے ذریعہ سب کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتا ہے۔گویا وہ چیز جو اس لئے عطا ہوئی تھی کہ انسان کو جنت میں لے جائے اسے دوزخ میں گرا دیتی ہے۔حکومت ہاتھ میں ہونے سے دماغ پھر جاتے ہیں۔فوج اور خدام مغرور بنا دیتے ہیں۔اور کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ سب کچھ غریبوں کی مدد کے لئے عطاء ہوا ہے نہ کہ ان کے حقوق غصب کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی یہ نعمتیں حاصل ہونے کے بعد سمجھا جاتا ہے کہ لوگوں کا فرض ہے ہماری خدمت کریں لیکن یاد رکھیں اس طرح کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔کامیابی خدمت اور قربانی میں ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالٰی متواتر مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ میں تم کو آزمائش میں ڈالنے والا ہوں اور تمھیں حکومت دے کر دیکھوں گا کہ کس طرح عمل کرتے ہو۔اور پچھلی قوموں سے نصیحت حاصل کرنے کی متواتر نصیحت کرتا ہے۔خدا تعالٰی کا یہ قانون ہے کہ گرے ہوؤں کی مدد کر کے وہ ان کو بڑھاتا ہے اسی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ مہاراجہ صاحب کشمیر کے دل میں ضرور رحم ڈالے گا۔اور وہ اپنے ملک کے مسلمانوں کو وہ انسانی حقوق دینے پر آمادہ ہو جائیں گے جن کے بغیر زندگی مشکل ہے۔اور یا پھر انکے ہاتھ خود ہی باندھے جائیں گے اور ان کی طاقت کمزور کر دی جائے گی۔انگریزی حکومت نے بھی مہاراجہ کشمیر کی تائید میں بعض آرڈی نینس سباری کئے ہیں۔بعض نادان شاید خیال کرتے ہوں کہ اس طرح یہ تحریک کچلی جائے گی۔لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے جو کام میرے یا کسی اور شخص کے ذریعہ ہو رہا ہو وہ تو رو کا جا سکتا ہے لیکن جسے خدا تعالیٰ کرنا چاہے اسے کسی شخص کو قید و بند میں ڈالنے بلکہ جان سے مار دینے سے بھی نہیں بند کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالٰی سے دعائیں کرو اور دوسروں کو بھی دعائیں کرنے کی ترغیب دو۔کیونکہ دعائیں سننے میں اللہ تعالی کسی کا خیال نہیں کرتا۔بلکہ عیسائی، یہودی ہندو' سب کی دعائیں سنتا ہے۔اس میں شک