خطبات محمود (جلد 13) — Page 323
خطبات محمود ۳۳۳ 38 سال ۱۹۳۲ء نظام جماعت کے احترام اور دعوت الی اللہ پر زور دینے کی تحریک (فرموده ۸- جنوری ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔خطبہ سے پہلے میں دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں اس بات کی عادت ڈالنی چاہئے کہ جس بات کا ایک دفعہ خطبہ سے پہلے اعلان ہو اسے اچھی طرح یا د رکھا جائے نظام سلسلہ نظام سلسلہ جس کا ذکر کرتے ہوئے ہماری زبانیں خشک ہوتی ہیں اسی بات کا نام ہے کہ تمام جماعت ایک قانون کی پابند ہو اور وہ بھی ہر حرکت و سکون کو مقررہ نظام کے ماتحت رکھے۔آوارہ گرد لوگوں اور ایک جماعت میں فرق یہی ہوتا ہے کہ آوارہ گردوں کا کوئی نظام نہیں ہو تا۔اور ان میں سے ہر شخص اپنی مرضی اور منشاء کے ماتحت کام کرتا ہے مگر جماعت اپنے لئے بعض قوانین مقرر کر کے ان کے ماتحت کام کیا کرتی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس بات کی پابند قرار دیتی ہے کہ وہ قائم کردہ نظام سے باہر نہیں نکلے گی۔اس اصل کے ماتحت تمام لوگ اتحاد اور پیجہتی سے کام کیا کرتے ہیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک بہت سے دوست ایسے ہیں جو نہ تو نظام جماعت کو قائم رکھنے کی طرف توجہ کرتے ہیں اور نہ ہی اگر کوئی اعلان ہو تو اسے یادر رکھتے ہیں۔اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اعلان سن کر یہ خیال کر لیتے ہیں کہ یہ اعلان ہمارے لئے نہیں دوسروں کے لئے ہے۔مثلاً ابھی چونکہ ایک ٹیکہ کی وجہ سے میرے ہاتھ پر ورم تھا میں نے اعلان کرایا تھا کہ دوست مجھ سے مصافحہ نہ کریں مگر باوجود اس کے کہ جو لوگ مصافحہ کا اس لئے زیادہ حق رکھتے تھے کہ وہ راستہ میں مصافحہ کے لئے بیٹھے تھے انہوں نے مصافحہ تو نہ کیا مگر جب میں ممبر پر پہنچ گیا تو اردگرد کے لوگوں نے مصافحہ کے لئے اٹھنا شروع کر دیا۔گویا جو لوگ میرے راستہ میں