خطبات محمود (جلد 13) — Page 288
خطبات محمود ۲۸۸ 34 سال ۱۹۳۱ء ایذاء دینے والوں سے محبت اور شفقت کا سلوک کرو (فرموده ۲۰- نومبر ۱۹۳۱ء بمقام لاہور) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں گلے کی خرابی اور کھانسی کی وجہ سے زیادہ بول نہیں سکتا لیکن ایک سوال جو آج کل کے حالات کے مطابق جماعت کے دلوں میں پیدا ہو رہا ہے اس کے متعلق مختصر ا کچھ بیان کروں گا۔پچھلے دوماہ سے ہماری جماعت کے خلاف اس قدر ایجی ٹیشن ہو رہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں ہر دس خطوط میں سے جو مجھے آتے ہیں ایک ضرور ایسے واقعات پر مشتمل ہوتا ہے کہ ہمارے علاقہ میں جماعت کے خلاف سخت شور و شر ہے بعض جگہ احمدیوں کو پیٹا جاتا ہے ، گالیاں دی جاتی ہیں اور برا بھلا کہا جاتا ہے، سلسلہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بد زبانی کی جاتی ہے اور یہ حالت اس حد تک ترقی کر گئی ہے کہ بعض جماعتوں کے دوست اب صبر کو قائم نہیں رکھ سکتے۔آج بھی مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آپ کی صبر کی تعلیم سے مخالف ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں ، صبر کے غلط معنی کئے جارہے ہیں اور تکالیف اب نا قابل برداشت ہو گئی ہیں اگر OFFENCE کی نہیں تو DEFENCE کی اجازت اسلام ضرور دیتا ہے اور ہمیں اب اپنی مدافعت کرنی چاہئے۔ان تکالیف کو میں بھی سمجھتا ہوں اور یہ مجھ پر اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ممکن ہے اپنے اندازہ میں میں غلطی کروں لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ شاید ان لوگوں کو جو مظالم کا تختہ مشق بنائے جارہے ہیں اس قدر تکلیف نہ ہوتی ہو جتنی مجھے ہوتی ہے لیکن باوجود اس کے ایک چیز ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک خاص مقصد کے لئے کھڑا کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کے بعض اصول جو لغو سمجھے گئے تھے اور لوگ انہیں اپنی ترقی کی راہ میں روک