خطبات محمود (جلد 13) — Page 284
سال ۱۹۳۱ء ۲۸۴ 33 لحاظ سے آرام میں نہیں رکھ سکتا تھا اور جو کچھ اس کے پاس ہو تا مہمان دازی میں صرف کر دیتا اگر اس کی بادشاہوں والی حالت ہوتی تو محض مالی تنگی کی وجہ سے اس کی بیوی کو طلاق لینے کی کیا ضرورت تھی۔مشہور ہے کہ حاتم کا ایک رقیب تھا جو بہت دولتمند آدمی تھا اس نے حاتم کی بیوی سے کہا کہ تو اس سے طلاق لے لے میں تجھ سے شادی کروں گا جب وہ الگ ہو گئی تو بجائے اس کے وہ اس کے مکان سے چلی جاتی حاتم نے خود ہی وہ مکان چھوڑ دیا اور آپ علیحدہ کسی اور مکان میں رہنے لگ گیا اس نے پہلا مکان بیوی کے پاس ہی رہنے دیا۔چونکہ وہ ڈیرہ حاتم کا ہی مشہور تھا اس لئے ایک دن کچھ مہمان آگئے عورت نے اس آدمی کو جس نے اس کے ساتھ شادی کرنے کا وعدہ کیا تھا کہلا بھیجا کہ ایک دو اونٹنیاں مہمانوں کے لئے بھیج دو ابھی چونکہ یہ حاتم کا ہی ڈیرہ مشہور ہے اس لئے لوگ آجاتے ہیں آہستہ آہستہ جب ان کو علم ہوتا جائے گا کہ یہ حاتم کا ڈیرہ نہیں تو وہ نہیں آئیں گے مگر ابھی چونکہ آتے ہیں اس لئے ایک دو اونٹنیاں ان کی مہمان نوازی کے لئے بھیج دو۔اس نے جب یہ پیغام سنا تو بہت ناراض ہوا اور کہنے لگا حاتم تو لوٹا ہی سخاوت کی وجہ سے گیا تھا کیا تو چاہتی ہے کہ مجھے بھی تباہ کر دے۔لکھا ہے اس واقعہ کی حاتم کو بھی اطلاع ہو گئی اس نے خیال کیا کہ ڈیرہ آخر میرے ہی نام پر ہے اگر مہمان بھوکے رہ گئے تو میرا ہی نام بد نام ہوگا وہ چپکے سے آیا اور اس کی جتنی اونٹنیاں تھیں وہ اس مکان میں چھوڑ کر چلا گیا یہ اخلاق تھے جو حاتم کے تھے۔آج کل شیخو پورہ وغیرہ اضلاع میں زمینداروں کے پاس اونٹ اور اونٹنیاں ہوتی ہیں یہی حالت حاتم کی تھی لیکن جو شہرت ، محبت ، سخاوت اور وفا کی وجہ سے اسے حاصل ہوئی وہ آج بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں۔تو جو اخلاق سے فتح دنیا میں حاصل ہو سکتی ہے ، وہ جبر اور تعدی سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس نئے اعلان کے بعد اگر وزراء اور نئے افسروں نے اسی روح سے کام کیا جس روح کا مہاراجہ صاحب نے اظہار کیا ہے تو وہ اپنے ملک کو کھو ئیں گے نہیں بلکہ اسے حاصل کریں گے اور اپنے نام کو دوام بخشیں گے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم ایک ریاست سے گذر رہے تھے چند لوگ جو ریاست کے باشندے تھے اپنے کسی پہلے راجہ کی تعریف میں شعر پڑھ رہے تھے۔میں نے پوچھا موجودہ راجہ کی کیوں تعریف نہیں کرتے کہنے لگے وہ راجہ جو اس سے پہلے گزر چکا تھا بہت اچھا تھا۔تو در حقیقت نیکی اور محبت ہی ایسی چیز ہے جو لوگوں کے قلوب پر اثر کرتی ہے اور انہیں تعریف کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ورنہ جبر سے کبھی کوئی حکومت اعزاز حاصل نہیں کر سکتی۔