خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 165

خطبات محمود ۱۶۵ سال ۱۹۳۱ء غیرت اور جوش میں آکر ایک شخص کو قتل کر دیا بلکہ ایک لڑائی میں ایک ایسا قتل ہوا ہے جس کی نسبت یقینا نہیں کہہ سکتے کہ کس کے ہاتھ سے ہوا ہے۔غرض اگر واقعہ یہ ہو تاکہ قاضی صاحب دیدہ دانستہ ایک شخص کو قتل کر دیتے تو بے شک قابل اعتراض بات تھی مگر واقعہ جو کچھ ہوا اور جس کو ایک سرکاری گواہ نے بھی جو ایک کم عمر لڑکا تھا اور اس وجہ سے جھوٹ بولنے میں پختہ نہ تھا تائید کی۔وہ یہ ہے کہ بیہودہ باتیں کر کے اور مباہلہ کا پرچہ دے کر انہیں اشتعال دلایا گیا اور انہوں نے کہا ایسی باتیں نہ کرو میرا دل جاتا ہے۔پس استغاثہ کا ایک گواہ بھی جو بوجہ کم عمری جھوٹ بولنے میں مشاق نہ تھا قاضی صاحب کے بیان کی تائید کرتا ہے۔باقی گواہوں نے جو گواہی دی وہ خواہ غلط نہمی کی بناء پر ہو خواہ انہوں نے جھوٹ بولا ہو مگر ہم ان کی گواہیوں کو قاضی صاحب کے بیان پر ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے کیونکہ قاضی صاحب نے سچائی کو آخری دم تک قائم رکھا اور ایک لڑکے نے بھی ان کے بیان کی تصدیق کی ہے کہ مستریوں نے ایسی باتیں کیں کہ قاضی صاحب نے کہا ایسی باتیں نہ کرو میرا دل جلتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ انہیں پہلے اشتعال دلایا گیا جس کے نتیجے میں لڑائی ہوئی۔اس کے بعد وہ کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کس کے ہاتھ سے کون قتل ہوا۔اگر ان کے ہاتھ سے ہوا تو انہوں نے محمد علی سمجھ کر اسے مار دیا اور اگر میرے ہاتھ سے ہوا تو میں نے عبد الکریم سمجھ کر مارا۔چونکہ اندھیرا تھا اس لئے معلوم نہیں کس کے ہاتھ سے کوئی قتل ہوا۔پس شریعت کی رو سے تو قابل سزا قتل واقعہ ہوا ہی نہیں کیونکہ قتل وہ ہے جو ارادہ سے کیا جائے۔ان کا پہلے جو خیال تھا وہ بدل گیا تھا پھر اشتعال کی وجہ سے لڑائی ہوئی جس میں معلوم نہیں کس کے ہاتھ سے کون قتل ہوا۔اپنی نسبت قاضی صاحب کا بیان ہے کہ مجھے مار مار کر بے ہوش کر دیا گیا اور رجب مجھے ہوش آیا تو میں نے یہ کہتے سنا کہ کوئی مر گیا ہے۔پس جب نہ قتل کا ارادہ تھا نہ قتل کیا صرف لڑائی ہوئی جس میں معلوم نہیں کس کے ہاتھ سے کون قتل ہوا تو ان پر قتل عمد کا الزام کیسے لگایا جا سکتا ہے۔پس ہم قاضی صاحب کی تعریف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے انہوں نے قتل نہیں کیا اور جو یہ کہتا ہے کہ انہوں نے بہت اچھا کیا جوش میں آکر دشمن کو قتل کر دیا وہ جھوٹا ہے اور اپنے مرحوم بھائی اور سلسلہ پر الزام لگا تا اور بہتان باندھتا ہے۔واقعہ صرف یہ ہے کہ وہ غیرت کی وجہ سے لڑے اور لڑائی میں ایک آدمی مارا گیا یہ معلوم نہیں کس کے ہاتھ سے مارا گیا۔موت بے شک واقع ہوئی مگر بالا رادہ قتل اسے نہیں کہا جا سکتا اور جو ایسا کہتا ہے وہ جھوٹا ہے۔عدالت کے فیصلہ کے ہم پابند نہیں اس نے اپنا کام کیا اور اپنی رائے