خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 141

خطبات محمود ۱۴۱ سال ۱۹۳۱ء صلہ میں جو میں نے تمہارے آباء و اجداد کی عزت کی حفاظت کرنے میں کی ہے تم آج میری عزت کی حفاظت کرو گے اور میدان سے پیٹھ دکھا کر نہیں بھا گو گے۔اگر خدا تعالیٰ زندگی دے تو کامیاب ہو کر آؤ وگرنہ پیٹھ دکھا کر نہ آؤ۔اس شیر دل عورت کے لڑکوں نے بھی اس دن ایسی جنگ کی کہ سب نے ان کی تعریف کی اور اللہ تعالیٰ کو بھی اس کا اخلاص ایسا پسند آیا کہ اس کے سب بیٹے زندہ واپس آگئے۔پھر عورت کی بہادری کا ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں۔حضرت سعد بن وقاص بڑے بہادر آدمی تھے اور رسول کریم ﷺ کے ساتھ کئی جنگوں میں شریک ہو چکے تھے اور اس میں کیا شبہ ہے رسول کریم میں اللہ کی زندگی میں لڑائی جیسی سخت ہوتی تھی بعد میں کبھی نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت آپ کی حفاظت کا سوال بھی ہو تا تھا۔تو آپ کے بعد ایک جنگ میں آپ جرنیل تھے اور آپ کی بیوی بھی ساتھ تھی جو ایک مسلمان جرنیل کی بیوہ تھیں مگر ان کی وفات کے بعد سعد بن وقاص سے شادی کرلی تھی آپ کے بدن پر بہت پھوڑے نکلے ہوئے تھے۔اس لئے جنگ میں شامل نہ ہو سکے۔عورت کی یہ فطرت ہے کہ بیوہ یا مطلقہ ہونے کی صورت میں وہ دوسرے خاوند کے سامنے اپنے پہلے خاوند کا ذکر نہیں کرتی کیونکہ اگر اس کے دل میں واقعی اس کا احترام ہو اور وہ اس کا نام لیتے ہوئے اس کا اظہار نہ کرے تو یہ غداری ہوتی ہے اور اگر کرے تو خاوند کے دل میں رشک پیدا ہوتا ہے۔حضرت سعد ایک اونچی جگہ پر بیٹھے تھے اور وہیں سے احکام صادر کر رہے تھے۔آپ پر چے لکھ لکھ کر پھینکتے جاتے اور سپاہی آگے لے جاکر افسروں کو پہنچاتے جاتے تھے۔ایرانیوں کا ایک سفید ہاتھی تھا جو قد و قامت میں بھی بہت بڑا تھا اور لڑائی کے لئے بھی اسے خاص طور پر تیار کیا گیا تھا۔اس نے مسلمانوں کا ایک قبیلہ سارے کا سارا مار ڈالا۔اور اس میں سے ایک بھی زندہ نہ چھوڑا۔سعد بیٹھے پہلو پر پہلو بدلتے مگر بیماری کی وجہ سے کچھ نہ کر سکتے تھے۔صرف حکم لکھتے جاتے۔ان کی بیوی کو بھی سخت اضطراب تھا جب اس نے دیکھا مسلمان اس طرح پیسے جارہے ہیں تو وہ بے اختیار اپنے پہلے خاوند کا نام لے کر چلا اٹھی کاش! آج مٹی ہو تا۔یہ ایک ایسی طنز تھی جو سعد سے برداشت نہ ہو سکی۔وہ وہ شخص تھے جنہوں نے رسول کریم اے کے ساتھ لڑائیوں میں بڑے بڑے کار ہائے نمایاں کئے تھے۔اور اب بھی اگر معذور نہ ہوتے تو ضرور میدان جنگ میں ہوتے تاہم ان کی بیوی کا منشاء یہ تھا کہ خواہ کچھ ہو ضرو ر میدان میں جاؤ۔بیوی کی اس طنز سے انہیں سخت غصہ آیا اور انہوں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔بیوی نے کہا یہ کیا بہادری ہے کہ ایک عورت کو تھپڑ مارتے ہو اور دشمن مسلمانوں کو شہید کرتے جارہے ہیں اور ان کے