خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 103

خطبات محمود ۱۰۳ 12 خلیفہ اور نظام سلسہ کا احترام (فرموده ۲۰ - مارچ ۱۹۳۱ء) ر تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- چونکہ مجھے برابر گلے کی تکلیف جاری ہے اور اس کے ساتھ ہی کچھ دنوں سے بخار کی بھی ہلکی سی حرارت رہتی ہے اس لئے میں ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت کوئی لمبی تقریر نہیں کر سکتا میں آج صرف ایک ایسے اعلان کے متعلق جو ابھی میرے سامنے پیش ہوا ہے کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔میں نے متواتر جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی ہے اور اس کے متعلق پہلے بھی کئی دفعہ کارروائی ہو چکی ہے۔مگر باوجود اس کے بعض لوگ اپنے ذاتی اغراض اور اپنے ذاتی فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے سلسلہ کے فوائد اور سلسلہ کے اغراض کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔بات یہ ہے کہ کسی صورت میں بھی خلیفہ وقت کو عدالتوں میں گواہ کے طور پر نہیں بلانا چاہئے۔اول تو ہمارے مقدمات ہماری عدالتوں میں ہی رہنے چاہئیں اور انہیں اسی جگہ طے کر لینا چاہئے لیکن اگر کوئی مقدمہ طے نہ ہو سکے اور اس کے تصفیہ کے لئے عدالتوں میں جانا ہی پڑے تو کبھی بھی خلیفہ وقت کو عدالت میں نہ بلایا جائے کیونکہ وہ اپنے عہدہ کے لحاظ سے اتنے وسیع تعلقات رکھتا ہے کہ ہر شخص سے اس کا معاملہ ہوتا ہے۔پس قطع نظر اس ادب اور احترام کے جو لوگوں کے دلوں میں اس کے متعلق ہو تا ہے اور قطع نظر اس ادب اور احترام کے جو اس مقام پر کھڑا ہونے کی وجہ سے اسے حاصل ہو تا ہے اگر عقلی طور پر بھی اس بات کی اجازت دے دی جائے تو سوائے اس کے کہ خلفاء روزانہ گواہیوں کے لئے کسی نہ کسی کھری میں کھڑے ہوں ان کا کوئی اور کام ہی نہیں رہ جاتا۔دن بھر میں پندرہ میں جھگڑے خلیفہ کے پاس ضرور آئیں گے اور اس لحاظ سے وہ سارے معاملات میں