خطبات محمود (جلد 12) — Page 530
خطبات محمود ۵۳۰ سال ۱۹۳۰ء ایسے ہوتے ہیں جو اس وجہ سے ترقی کرتے چلے جاتے ہیں کہ انہیں اس رو میں بہتے چلے جانے کا موقع مل جاتا ہے جو ان کی طبیعت کے لئے موزوں ہوتی ہیں ایسے لوگ اس خاص طبعی موانست کے ہوا جب کوئی اور پیشہ اختیار کرتے ہیں تو باوجود اپنے اندر بڑھنے کی قابلیت رکھنے کے ناکام ہوتے ہیں۔پھر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اسی پیشہ کو اختیار کرتے ہیں جس کے کرنے کی قابلیت ان میں ہوتی ہے مگر باوجود اس کے وہ ناکام رہ جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں معلوم نہیں ! ہوتا کہ ان کے اندر قابلیت موجود ہے اگر انہیں اس بات کا علم ہو جائے تو وہ فورا ترقی کی طرف قدم اُٹھانے لگ جائیں۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ابتدائی مشکلات یا عارضی ناکامیوں کی وجہ سے سمجھ لیتے ہیں کہ ان کے اندر قابلیت موجود نہیں۔حالانکہ مشکلات کا پیدا ہونا اور ناکامیوں کا پیش آنا کوئی بڑی بات نہیں ناکامیاں انسان کو آتی ہیں اور مشکلات بھی پیدا ہوتی ہی ہیں مگر باوجود اس کے بعض لوگ چوٹی کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔دو مشہور تاریخی واقعات یعنی بابر اور تیمور کے ہمارے سامنے ہیں۔لکھا ہے کہ انہیں ابتداء میں سخت ناکامیوں کا سامنا ہوا۔بابر کو بارہ دفعہ خطر ناک شکست ہوئی حتی کہ وہ محصور ہو گیا اور آخر اُسے اپنا مرکز بھی چھوڑنا پڑا۔وہ ایک دن قضائے حاجت کیلئے بیٹھا ہوا تھا کہ اُس نے دیکھا کہ ایک چیونٹی بوجھ اُٹھائے ہوئے دیوار پر چڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔وہ چڑھتی تھی اور گرتی تھی۔پھر چڑھتی اور پھر گرتی تھی، پھر چڑھتی تھی اور پھر گرتی تھی، غرضیکہ کئی بار اس کے سامنے وہ چڑھی اور کئی بار گری۔بابر کی طبیعت پر اس کا خاص اثر ہو اوہ متواتر اُسے دیکھتا رہا آخر ایک دفعہ وہ اتنا اونچا چڑھ کر گری کہ ادھ موئی سی ہوگئی۔بابر نے خیال کیا شاید مرگئی ہے اور وہ بھی کچھ دیر بے حس و حرکت پڑی رہی اس کے بعد اسے ہوش آیا اور اس نے پھر چڑھنا شروع کر دیا۔اس نظارہ کو دیکھ کر بابر بے تحاشا یہ کہتا ہوا اُٹھا کہ اگر یہ چیونٹی ہو کر بار بار گرنے کے باوجود پیچھے نہیں بنتی تو میں انسان ہو کر مایوس کیوں ہوں۔چنانچہ اس نے پھر اپنے دوستوں کو جمع کیا اور دشمنوں کو شکست دی اور اُس کی فتوحات کا سلسلہ اس قد روسیع ہوا کہ وہ ایران و کابل وغیرہ کو فتح کرتا ہوا ہندوستان آ پہنچا۔تو وہ وہی شخص تھا جسے پہلے اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا مگر اُس نے ایک چیونٹی سے سبق حاصل کیا اور محسوس کر لیا کہ یہ عارضی ناکامیاں ہیں اور بالآخر کامیاب ہو گیا۔اگر بابر اور تیمور ابتدائی ناکامیوں سے ہی پیچھے ہٹ جاتے تو دنیا دو بہترین بادشاہوں سے محروم رہ جاتی اور انسانی ہمت کے دو بہترین نتائج نہ دیکھ سکتی۔مگر انہوں نے