خطبات محمود (جلد 12) — Page 496
خطبات محمود ۴۹۶ کامیابی کیلئے تیسری چیز یہ ہے کہ انسان محنت کرے۔قابلیت بھی ہو سامان بھی ہوں اور پھر وہ محنت بھی کرے مگر محنت بھی اکیلے کام نہیں دے سکتی جب تک اس کا نتیجہ برآمد نہ ہو۔انجینئر بھی موجود ہوا بینٹ چونا وغیرہ سامان بھی موجود ہوں مگر انجینئر کو تنخواہ دینے والا کوئی نہ ہو تو بھی کام نہیں ہو سکتا۔اسی طرح لوہار ہو لو ہا ہو مگر اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو خرید نے والا کوئی نہ ہو تو اس کی عقل نہیں ماری ہوئی کہ وہ سارا دن کام کرتا رہے۔یا پھر زمین ہو پانی بھی ہو اور زراعت کے تمام انتظامات مکمل ہوں مگر ایک دانہ کے ستر دانے نہ ہوں تو زمیندار کو کیا چھٹی پڑی ہے کہ وہ خواہ مخواہ گھر سے دانہ نکال کر باہر پھینک آئے۔پس یا د رکھنا چاہئے کہ لوگ کام نتیجہ کے لئے کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الرجیم یعنی تم محنت کرو مگر محنت چونکہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو اس لئے نتیجہ ہم نکال دیں گے۔گویا وہی صورت ہوئی کہ سامان وغیرہ سب اپنے پاس سے دیئے لکھایا، پڑھایا اور پھر فرمایا کہ جاؤ محنت مزدوری تم کرو اور نتیجہ ہم نکال دیں گے یعنی تنخواہ ہم دیں گے۔چوتھی چیز کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان جس طرح انفرادی طور پر کوئی کام کرتا ہے اسی طرح قومی طور پر بھی اس کی اعانت کرنے والے ہوں انسان مدنی الطبع ہے یعنی کامیابی کے لئے دوسروں کے تعاون کا محتاج ہے۔ایک سپاہی کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اگر اس کے ساتھی ٹھیک نہ ہوں گے تو وہ لڑائی نہیں کر سکتا۔یا کوئی اچھا تاجر ہومگر جب تک اسے سہارا دینے والے اور تاجر ملک یا شہر میں نہ ہوں اُس وقت تک وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔غرضیکہ کوئی ایسا پیشہ نہیں جو جتھہ کے بغیر کامیاب ہو سکے یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانہ میں لوگ قومی طور پر پیشے اختیار کرتے تھے تا جتھہ بن سکے۔ہر کام جو انسان کرتا ہے اس کا ایک ذاتی نتیجہ ہوتا ہے اور ایک قومی اور ذاتی تو خواہ کام کرنے والے کو مل بھی جائے، مگر اس کی کامیابی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتی جب تک قومی طور پر اس کا کوئی جتھہ نہ ہو۔ایک شخص اگر پڑھتا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے۔اس کا ایک فائدہ تو اس کی ذات کو ہو گا یعنی اسے علم حاصل ہو گا اور پھر تنخواہ بھی ملے گی تو یہ ذاتی فائدہ ہے۔لیکن ایک فائدہ اسے قومی طور پر ہو گا اور وہ یہ کہ جس قوم کے زیادہ لوگ پڑھ جائیں گے اسے مجموعی طور پر عزت حاصل ہوگی جیسے موجودہ حکومت میں ہندوؤں کو