خطبات محمود (جلد 12) — Page 462
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء درس دینے والے صاحب نے معلوم ہوتا ہے قرآن کریم پر غور نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں کھول کر بیان فرمایا ہے کہ معجزات میں اخفاء اور پوشیدگی کے پہلو کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے اور ان میں معترضین کے لئے شبہات پیدا کرنے کی بظاہر گنجائش ہوتی ہے ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف سے معجزات کا ظہور ایسے طور پر ہوتا ہے کہ شک کرنے والوں کے لئے یہ بات کہنے کی ایک طرح سے گنجائش رہتی ہے کہ یہ اتفاقی امور میں سے ہیں جو دنیا میں عام طور پر پائے جاتے ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی سچائی کا ایک یہ نشان بتایا تھا کہ میرے گھر میں طاعون نہیں آئے گی سو باوجود اس کے کہ یہ ایک عظیم الشان نشان ہے ایک صدی معترض کہہ سکتا ہے کہ یہ اتفاقی بات ہے مگر طور کے اس طور پر اُٹھائے جانے کو کوئی ضدی سے ضدی آدمی بھی اتفاقی نہیں کہہ سکتا یہی حال مُردوں کو زندہ کر کے دنیا میں واپس لانے کا ہے ایسے معجزات کبھی نہیں دکھلائے جاتے۔بعض لوگ جو اس قسم کے خیالات میں مبتلاء ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں سے بعض عبارتیں اپنے خیال کی تائید میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ان میں قدرت ہی کا ذکر ہے نہ یہ کہ یہ بات خدا تعالیٰ کی سنت اور اس کے فرمودہ کے مطابق بھی ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت میں تو یہ بھی داخل ہے کہ تمام دنیا کو انسان کے سر پر لا کر رکھ دے مگر یہ بات کہ فلاں بات خدا تعالیٰ کی قدرت میں داخل ہے اور یہ بات کہ خدا تعالیٰ اس قدرت کا اظہار بھی کرتا ہے ایک نہیں بلکہ ان میں بہت بڑا فرق ہے۔خدا تعالیٰ چاہے تو وہ مُردوں کو زندہ کر کے اسی دنیا میں واپس لا سکتا ہے مگر وہ ایسا کرتا نہیں۔پس محض یہ کہنا کہ چونکہ فلاں بات خدا تعالیٰ کی قدرت میں ہے اس لئے وہ ایسا کرتا بھی ہے یہ غلط خیال ہے۔اس قسم کے معجزات کے قصوں کو درست قرار دینا سلسلہ کی تعلیم کے مخالف اور اس کی بیخ کنی کے مترادف ہے کیونکہ بعض لوگ ان جھوٹے قصوں کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات کو جھٹلا دیں گے کیونکہ انہیں یہ باتیں آپ کے نشانات میں نظر نہیں آئیں گی اور بعض لوگ مبالغہ آمیز روایات گھڑنے لگیں گے۔اس قسم کی باتیں بظاہر معمولی اور مجزوی معلوم ہوتی ہیں مگر نتائج کے لحاظ سے نہایت خطر ناک اور اصول پر تبر چلانے والی ہوتی ہیں۔ان کے ذریعہ سے ایک شریر انسان لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے۔پس جو بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ایسی منسوب کی جائے