خطبات محمود (جلد 12) — Page 430
سال ۱۹۳۰ء الأمرُ يَوْمَئِذٍ لِلهِ اُس دن سچا فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ہی ہوگا۔اگر چہ دنیا میں بھی خدا تعالیٰ کا ہی فیصلہ ہوتا ہے اور قیامت میں بھی اُس کا ہی ہوگا۔لیکن انبیاء کے زمانہ میں صداقت و انصاف چونکہ دُنیا سے مٹ جاتا ہے اور لوگ تعصب سے اس قدر اندھے ہو جاتے ہیں کہ عدل و انصاف ان میں نام کو بھی نہیں رہتا اس لئے قرآن نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انبیاء کے زمانہ میں اگر کوئی سچا فیصلہ ہوسکتا ہے تو وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور اگر عدالت میں جائیں تو ندامت اور پشیمانی ہی اُٹھانی پڑے گی۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا بڑا حصہ ہمارے ان اعمال کی وجہ سے جو اگر چہ ہم تو اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کرنے کے لئے ہی کرتے ہیں لیکن جنہیں دوسرے لوگ تفرقہ اور شقاق کا موجب سمجھتے ہیں سارے کا سارا بہ حیثیت مجموعی ہمارا مخالف ہے۔گو بہ حیثیت افراد ان میں سے شریف لوگ ہمارے مداح اور خیر خواہ بھی ہیں۔ایسی صورت میں ہمارا عدالت میں جانا گویا خود اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنا اور اپنے وقت اور روپیہ کا ضائع کرنا ہے۔نہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کبھی عدالت میں گئے اور نہ ہی ہم جانے کے لئے تیار ہیں خواہ کوئی ہمیں کتنا دُکھ دے ہم فیصلہ اللہ تعالیٰ پر ہی چھوڑیں گے اور اس میں کیا محبہ ہے کہ اصل فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ہی فیصلہ ہے۔ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہو ا مباہلہ والوں نے کس قدر ہمیں دُکھ دیا اور تکلیف پہنچائی جس سے جماعت میں بہت جوش پیدا ہوا اور دوستوں نے مقدمہ چلانے پر زور دیا بلکہ بعض تو مقدمہ نہ چلانے کی وجہ سے ناراض ہی ہو گئے۔لیکن اگر مقدمہ ہماری طرف سے ہوتا تو سمجھ لو ہمارے سارے کے سارے مخالف ان کے ساتھ مل جاتے مگر خدا تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ کیسا زبردست ہے ان کے سب ساتھی قید ہو گئے سب کو اپنی اپنی پڑ گئی اور یہ ہماری طرف سے نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہی اس کے لئے سامان پیدا کر دئیے۔ان کے دلوں میں گورنمنٹ کی مخالفت کا جوش پیدا ہو ا جس کی وجہ سے وہ سب پکڑے گئے باقی مستری رہ گئے ہیں جو بالکل کم حیثیت اور ذلیل لوگ ہیں۔اصل وہی تھے جن کی شہ پر انہیں شرارتیں کرنے کی جرآت تھی۔اور وہ گرفتار ہو چکے ہیں۔پھر وہ اخبار جو ہمارے خلاف لکھ رہے تھے ان کو بھی اپنی اپنی پڑ گئی کئی ایک تو بند ہو گئے اور جو باقی ہیں وہ بھی پر لیس آرڈینینس کے خوف کی وجہ سے اب کچھ لکھنے کی جرات نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اگر ہماری طرف سے پچاس ہزار مقدمات بھی کئے جاتے تب بھی نہ ہو سکتا تھا لیکن