خطبات محمود (جلد 12) — Page 426
خطبات محمود ۲۶ پہلے یہاں کے غیر احمدی مسلمانوں نے بھی ان کی تائید کی تھی اس لئے ہم نے ان کے متعلق بھی یہی رویہ اختیار کر لیا لیکن اب انہوں نے اصلاح کرلی ہے ان کے متعلق یہ حکم منسوخ کر دیا گیا ہے اور اسی طرح ہندوؤں کے متعلق بھی ہو سکتا ہے بشرطیکہ ذمہ وار معززین کی طرف سے اس امر کا یقین دلایا جائے کہ آئندہ ایسی شرارت نہ ہوگی۔ہاں کھانے پینے کی اشیاء خریدنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ چیزیں ہندو بھی ہم سے نہیں خریدتے۔اس طرح اگر انگریز بھی یہ اعلان کر دیں کہ ہم ہندوستان سے کوئی چیز نہیں خریدیں گے تو ہم بھی ان سے ایسا ہی سلوک کریں گے لیکن جب کہ وہ یہاں سے کئی اشیاء مثلاً غلہ روئی وغیرہ خریدتے ہیں تو ہم بھی ان کا بائیکاٹ نہیں کر سکتے اور ہم تو بائیکاٹ کو نا جائز سمجھتے ہیں۔ہم نے یہاں جو کچھ کیا محض فتنہ سے بچنے کیلئے کیا باقی معاملات میں ان سے ہمارے تعلقات بدستور ہیں۔ایسی صورت اگر انگریزوں کے ساتھ پیش آ جائے تو ان سے بھی ایسا کرنا جائز ہوگا یا اگر ہندوستان کے کارخانہ دار گاندھی جی کے آدمیوں کو جو کپڑا وغیرہ لینے جائیں پکڑ کر ان پر چوری کا الزام لگا دیں اور اس کے بعد گاندھی جی کوئی ایسا اعلان کریں جس میں اپنے آدمیوں کو وہاں جانے سے روکیں تو یہ قابل اعتراض امر نہیں ہو سکتا اور بعینہ یہی صورت ہماری ہے وگرنہ ہم نے کبھی بائیکاٹ نہیں کیا اور نہ ہی اسے جائز سمجھتے ہیں اور یہاں کے متعلق اگر اب بھی ہند ولیڈ ر ضمانت دے دیں تو یہ بندش بھی اُٹھائی جاسکتی ہے۔پس اس قسم کی مثال کو بیچ میں لانا کسی طرح بھی درست نہیں ہوسکتا۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ہیں جنہیں کسی اور موقع پر اُٹھا رکھتا ہوں۔ہاں ایک خط کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو منٹگمری سے آیا ہے وہاں سے ایک دوست نے لکھا ہے کہ یہاں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے اس تحریک کی مخالفت علی الاعلان کی تو لوگ ناراض ہو جائیں گے اور طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں گے۔مجھے یہ خط پڑھ کر سخت حیرت ہوئی کیونکہ میں نہیں سمجھ سکتا مومن بُزدل بھی ہو سکتا ہے۔اگر لوگوں کی مخالفت ہمارا اُس وقت کچھ نہ بگاڑ سکی جب ہم نہایت قلیل تعداد میں تھے تو اب کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری تعداد بہت بڑھ چکی ہے کیا ہم بُزدل ہو جائیں گے۔لیکن یہ کیفیت صرف ایک جگہ کی ہے اگر باقی مقامات پر بھی ایسا ہی ہوتا تو بے شک مجھے مایوسی ہوتی لیکن ایسا نہیں۔باقی جہاں ایک ایک دو دو دوست بھی ہیں وہ بھی خوب کام کر رہے ہیں۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی ستر سالہ بوڑھے ہیں حتی کہ ان کے منہ میں