خطبات محمود (جلد 12) — Page 396
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء بچی ہوئیں تو بغیر کسی خوف وخطر کے ہم ان کا ساتھ دیں گے۔معلوم نہیں یہ پیغام انہوں نے پہنچایا یا نہیں لیکن ہم ہر شخص کی باتیں سننے اور ان میں جو صداقت ہوا سے ماننے کے لئے تیار ہیں اور کوئی چیز اس سے ہمیں روک نہیں سکتی۔اسی طرح ولایت سے آتے ہوئے میں خود گاندھی جی سے ملا اور ان سے ذکر کیا کہ کانگریس میں جبر نہیں ہونا چاہئے۔تمام ایسے قوانین مٹا دئیے جائیں جو جبر کا پہلو ر کھتے ہوں اور کانگریس کے دروازے ہر ہندوستانی کے لئے کھول دیئے جائیں پھر جس خیال کے لوگوں کو غلبہ حاصل ہو جائے وہ کام کریں۔دنیا کا کوئی شریف الطبع انسان خواہ وہ گورنمنٹ کا مخالف ہو یا گورنمنٹ سے تعلق رکھتا ہوز بردستی نہیں مان سکتا کیونکہ شرافت اور انسانیت جبر کو تسلیم نہیں کر سکتی اور اسلام تو اس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔پس جماعت کو اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم تھوڑے ہیں بیشک یہ صحیح ہے کہ ہم تھوڑے ہیں لیکن تھوڑے ہونا خوف کا باعث ہرگز نہیں ہوسکتا۔قرآن کریم میں كُمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً آیا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا آیا ہے کہ صداقت کی حامل چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی قوموں کو کھا گئیں۔اور اگر یہ سچ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہیں تو ہم تھوڑے ہونے کے باوجود یقینا دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے۔دنیا کا خوف جان کی وجہ سے ہی ہوتا ہے لیکن کیا مؤمن جان دینے سے ڈرسکتا ہے ہر گز نہیں۔ضرار بن از در ایک صحابی تھے۔جو جنگ میں بہت کا رہائے نمایاں کرتے رہے۔ایک موقع پر عیسائیوں سے لڑائی ہو رہی تھی کہ عیسائیوں کے ایک پہلوان نے بہت سے مسلمان بہادروں کو شہید کر دیا اور پھر للکار کر مبارز طلب کیا۔حضرت ضرار اس کے مقابلہ کے لئے نکلے۔چونکہ آپ ایک مسلمہ بہادر اور جری تھے اور عام طور پر یہ خیال تھا کہ آپ اس عیسائی کو ضرور مار لیں گے اس لئے مسلمانوں نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔جب دشمن کے قریب پہنچے تو اپنے خیمہ کی طرف واپس دوڑ آئے آپ چونکہ رسول کریم ﷺ کے صحابی اور بہترین بہادروں میں سے تھے اس لئے مسلمانوں میں ایک عام بے چینی پیدا ہو گئی۔آپ کے ایک دوست نے گھوڑا دوڑایا کہ آپ کے خیمہ میں جا کر آپ کو بھاگنے پر ملامت کرے لیکن جب وہ خیمہ کے پاس پہنچا تو آپ باہر نکل رہے تھے۔واپس آنے کے متعلق دوست کے استفسار پر آپ نے بتایا کہ میں جب لڑائی |