خطبات محمود (جلد 12) — Page 391
خطبات محمود ٣٩١ سال ۱۹۳۰ء میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت جو ایک طرف تو مشکل اور نازک اوقات میں ملک اور قوم کی خدمات کر کے خراج تحسین حاصل کرتی رہی ہے اور اس طریق عمل کو صحیح اور درست قرار دیا جاتا رہا ہے اور دوسری طرف عدل و انصاف اور ملک کی بھلائی کے لئے گورنمنٹ سے تعاون کر کے اس سے اپنے تعلقات اچھے رکھتی رہی ہے اس نازک موقع پر جس سے زیادہ نازک وقت کبھی نہیں آیا اپنی سابقہ روایات کو قائم رکھے گی اور اس طرح ایک طرف تو ملک سے اپنی ہمدردی اور خیر خواہی کا اعتراف کرائے گی اور دوسری طرف گورنمنٹ سے قانون پسندی اور امن جوئی کا اقرار کرائے گی اور اس وسطی راستہ پر چلے گی جو امن اور انصاف کا راستہ ہے۔(الفضل ۹۶ مئی ۱۹۳۰ء )