خطبات محمود (جلد 12) — Page 380
خطبات محمود ٣٨٠ سال ۱۹۳۰ء مگر وہ واقعات چونکہ ہماری آنکھوں نے دیکھتے ہیں اس لئے فیصلہ خواہ کچھ ہو اس کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوسکتا۔اگر عدالت ان واقعات کی تصدیق کرے تو اس سے ہمارے علم میں کوئی زیادتی نہ ہوگی اور اگر ان کا انکار کر دے تو اس سے کوئی کمی نہ ہو جائے گی۔اور سچ بولنے پر اگر کوئی سزا ہو جاتی ہے تو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہو سکتی۔پہلے انبیاء کی جماعتیں صداقت کے لئے خوشی سے جانیں دیتی رہی ہیں۔اگر ہماری جماعت کے چند لوگوں کو صداقت پر ہوتے ہوئے سزا ہو جائے تو مؤمن کے لئے یہ عزت کی بات ہے نہ کہ رنج وغم کی۔دوسرے لوگوں کے ہاں موتیں ہوتی ہیں تو وہ روتے پیٹتے ہیں مگر خدا تعالیٰ اپنی راہ میں مرنے والوں کے متعلق فرماتا ہے جاؤ انہیں بشارت دے دو کہ انہیں خدا کا فضل حاصل ہو گیا۔پس مصائب مومن کے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتے مگر کسی بلا کو خود طلب کرنا نہیں چاہئے۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان اصحاب کے لئے جو مختلف مصائب میں مبتلاء ہیں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا فضل نازل فرمائے۔آج میں جس مسئلہ کے متعلق اظہار خیالات کرنا چاہتا ہوں وہ ہے تو سیاسی مگر اسلام سیاسیات سے علیحدہ نہیں ہے بلکہ سیاسیات کا وہ حصہ جو جائز اور درست ہے وہ اسلام میں داخل ہے اور میں اسی حصہ کے متعلق آج خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ہمارے دوست نا واقف نہیں ہیں کہ آج کل سارے ہندوستان میں کانگریس کی طرف سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔کانگریس اپنی ذات میں ہمارے لئے کسی تکلیف اور رنج کا موجب نہیں ہے۔وہ چند ایسے افراد کا مجموعہ ہے جو اپنے بیان کے مطابق ملک کی آزادی اور بہتری کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور کوئی عقلمند کوئی شریف کوئی باحیا اور کوئی انسان کہلانے کا مستحق انسان ایسے لوگوں کو بے قدری اور بے التفاتی کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا جو اپنے آپ کو اس لئے مصیبت میں ڈالے ہوئے ہوں کہ اپنے ملک اور اہل ملک کو آرام اور آسائش پہنچا ئیں۔اس لئے جس حد تک ان کے اپنے بیان اور ان کے اصول کا تعلق ہے ہمیں ان کے ساتھ کھلی ہمدردی ہے۔اور جس مقصد اور مدعا کو لے کر وہ کھڑے ہوئے ہیں اور جو ملک کی بہتری اور خریت کے سامان پیدا کرنا ہے ان کے حصول کی خواہش میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ہندوستان کی آزادی اور حریت جس طرح گاندھی جی پنڈت موتی لال نہرو پنڈت جواہر لال نہرو مسٹرسین، مسٹر آئنگر ڈاکٹر ستیہ پال وغیرہ کو مطلوب ہے اسی طرح ہمیں بھی